ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 438

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۸ جلد دوم نے برابر ۱۳ سال تک خطرناک ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور طرح طرح کے دکھ ان ظالموں نے دیے چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور بعض بڑے بڑے عذابوں سے مارے گئے چنانچہ تاریخ پڑھنے والے پر یہ امر مخفی نہیں ہے بیچاری عورتوں کو سخت شرمناک ایذاؤں کے ساتھ مار دیا۔ یہاں تک کہ ایک عورت کو دو اونٹوں سے باندھ دیا اور پھر ان کو مختلف جہات میں دوڑا دیا اور اس بیچاری کو چیر ڈالا اس قسم کی ایذا رسانیوں اور تکلیفوں کو برابر ۱۳ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پاک جماعت نے بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔ اس پر بھی انہوں نے اپنے ظلم کو نہ روکا اور آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کیا گیا اور جب آپ نے خدا تعالیٰ سے اُن کی شرارت کی اطلاع پا کر مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی پھر بھی انھوں نے تعاقب کیا اور آخر جب یہ لوگ پھر مدینہ پر چڑھائی کر کے گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے حملہ کو روکنے کا حکم دیا کیونکہ اب وہ وقت آگیا تھا کہ اہل مکہ اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی پاداش میں عذاب الہی کا مزہ چکھیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے جو پہلے وعدہ کیا تھا کہ اگر یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں گے تو عذاب الہی سے ہلاک کئے جائیں گئے وہ پورا ہوا۔ خود قرآن شریف میں ان لڑائیوں کی یہ وجہ صاف لکھی ہے أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۖ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٌّ ( الحج : ۴۱،۴۰) آہ! یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی دی گئی جن کے قتل کے لیے مخالفوں نے چڑھائی کی (اس لیے اجازت دی گئی ) کہ اُن پر ظلم ہوا اور خدا تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ مظلوم ہیں جو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے ۔ ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا کہ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے یہ وہ آیت ہے جس سے اسلامی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پھر جس قدر رعائتیں اسلامی جنگوں میں دیکھو گے ممکن نہیں کہ موسوی یا یشوعی لڑائیوں میں اس کی نظیر مل سکے ۔ موسوی لڑائیوں میں لاکھوں بے گناہ بچوں کا مارا جانا، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل، باغات اور درختوں کا جلا کر خاک سیاہ کر دینا ، تو رات سے ثابت ہے۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے با وصفیکہ ان شریروں سے وہ سختیاں اور