ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 38

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد دوم ہوتے تھے اور مجدد کثرت سے آتے تھے۔ مگر یہ ضروری امر ہے کہ تجدید سے مراد صرف چند کلمے کہنے والوں کی جماعت نہیں ہوتی ہے بلکہ خدا تو جلال چاہتا ہے پس مجدد چاہتا ہے کہ انسان میں ایک تبدیلی ہو۔ نیا دل ہونئی روح ہو۔ اس لئے میری ہمیشہ یہ آرزو ہے کہ ہماری جماعت ایسی ہی ہو کہ خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھے اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی پیدا کریں کہ گویا وہ ایک نئی دنیا کے انسان ہوں ۔ اور جب جماعت اس حالت پر پہنچے گی تو پھر فوق العادت ترقی ہوگی ۔ پس ہر ایک تم میں سے نیا انسان بننے کی کوشش کرے کیونکہ تم نے ایک مجدد کو قبول کیا ہے۔ پس یا درکھو کہ مخالفوں پر غالب آنے کے واسطے تقوی ضروری ہے اور اس کے لئے اس زمانہ میں بہتر طریق یہی ہے کہ ہمارے پاس رہیں ۔ سب سے پہلے مولوی نورالدین صاحب نے اس راز کو سمجھا ہے اور وہ محض خدا کی رضا مندی کے واسطے اور دین کو حاصل کرنے کے واسطے یہاں آ کر جنگل میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بہت بڑی قربانی کی ہے۔ اپنی جائیدادیں اور املاک چھوڑیں اور ایک جنگل کی رہائش اختیار کی ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مولوی صاحب جیسی قابلیت اور لیاقت کا آدمی اگر لاہور یا امرتسر میں رہتا تو بہت بڑا دنیوی فائدہ اٹھا سکتا تھا اور کئی بار لاہور اور امرتسر والوں نے چاہا بھی کہ وہ یہاں ہ آکر رہیں مگر انہوں نے کبھی یہاں کے رہنے پر دوسری جگہ کی آمدنی اور فوائد کو تر جیح نہیں دی اللہ تعالی ان کو اس کی بہتر جزا دے۔ اس قسم کے لوگ ہوں اور ایسی روح اور یقین یہاں لے کر آئیں ۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ بعض احباب ہمارے ہر سال دنیا سے رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ یہ کس کو معلوم ہے کہ اگلے سال کون ہو گا اور کس کو طلبی کا حکم آجائے گا۔ پس اس سے پیشتر کہ انسان دنیا سے رخصت ہو اس کو ضروری ہے کہ وہ خدا سے صلح کرلے اور یہ سچی بات ہے کہ کسی شخص کو فیض الہی نہیں پہنچتا جب تک کہ اس کو خدا کے فرستادہ کے ساتھ سچی محبت نہ ہو اور اس محبت کا ثبوت اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت اختیار کرے۔ صوفی جو یہ کہتے ہیں کہ مرید کو فائدہ نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے مرشد کو سب سے اچھا نہ سمجھے۔ میرے نزدیک یہ بات بے شک ضروری ہے لیکن وہ جو یہ کہتے ہیں کہ مرشد کو لازم ہے کہ وہ ہر وقت عبوس