ملفوظات (جلد 2) — Page 432
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۲ جلد دوم عادة اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جب بگاڑ حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اصلاح کے لیے کسی کو پیدا کر دیتا ۔ کو پیدا کر دیتا ہے۔ ظاہر نشان تو اس کے صاف ہیں کہ صدی سے انیس برس گزر گئے ( اور ۔ اب تو بیسواں سال بھی شروع ہو گیا۔ ایڈیٹر ) اب دانش مند کے لیے غور کا مقام ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہر صدی کے سر پر مجدد کے مبعوث کرنے کا وعدہ الگ ہے۔ اور قرآن شریف اور اسلام کی حفاظت اور نصرت کا وعدہ الگ۔ زمانہ بھی حضرت کے بعد مسیح کی آمد کے زمانہ سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ جو نشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موعود کے آنے کے مقرر کیے ہیں وہ پورے ہو چکے ہیں۔ تو پھر کیا اب تک بھی کوئی مصلح آسمان سے نہیں آیا؟ آیا اور ضرور آیا اور خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق عین وقت پر آیا مگر اس کی شناخت کرنے کے لیے ایمان کی آنکھ کی ضرورت ہے۔ جماعت کے قیام کی غرض پھر عقل مند کھانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے۔ جب وہ ان تمام امور کو اب قیام کو جو بیان کیے جاتے ہیں ایک جائی نظر سے دیکھے گا۔ اب میرا مدعا اور منشا اس بیان سے یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اس کی تائید میں صد با نشان اس نے ظاہر کیے ہیں ۔ اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ یہ جماعت صحابہؓ کی جماعت ہو اور پھر خیر القرون کا زمانہ آجاوے۔ جو لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں چونکہ وہ آخَرِينَ مِنْهُمُ میں داخل ہوتے ہیں ، اس لیے وہ جھوٹے مشاغل کے کپڑے اُتار دیں اور اپنی ساری توجہ خدا تعالیٰ کی طرف کریں۔ فیح اعوج ( ٹیڑھی فوج ) کے دشمن ہوں ۔ اسلام پر تین زمانے گزرے ہیں۔ ایک قرون ثلاثہ اس کے بعد فیج اعوج کا زمانہ جس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ لَيْسُوا مِٹی وَلَسْتُ مِنْهُمْ یعنی نہ وہ مجھ سے ہیں اور نہ میں اُن سے ہوں اور تیسرا زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے زمانہ سے ملحق ہے بلکہ حقیقت میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ہے۔ تیج اعوج کا ذکر اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بھی فرماتے تو یہی قرآن شریف ہمارے الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۲ صفحه ۶،۵