ملفوظات (جلد 2) — Page 410
ملفوظات حضرت مسیح موعود لدا۔ جلد دوم کہ صحت بھی اچھی رہی اور کام ہوتا رہا۔ مجھے تو افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ جمع بین الصلاتین پر روتے ہیں حالانکہ مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھے ہیں ۔ کسوف و خسوف کا اجتماع ہوا یہ بھی میرا ہی نشان تھا اور وَ إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (التکویر : (۸) بھی میرے ہی لئے ہے۔ اور آخَرِينَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعة : ۴) بھی ایک جمع ہی ہے کیونکہ اول اور آخر کو ملا یا گیا ہے اور یہ عظیم الشان جمع ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض کی زندگی پر دلیل اور گواہ ہے اور پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دیئے ہیں چنانچہ مطبع کے سامان، کاغذ کی کثرت ڈاک خانوں ، تار اور ریل اور دخانی جہازوں کے ذریعے کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہی ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں اب فونوگراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے اخباروں اور رسالوں کا اجراء غرض اس قدر سامان تبلیغ کے جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اغراض میں سے ایک تکمیل دین بھی تھی جس کے لئے فرمایا گیا تھا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ لئے دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدة: ۴) اب اس تکمیل میں دو خو بیاں تھیں ایک تکمیل ہدایت اور دوسری تکمیل اشاعت ہدایت ۔ تکمیل ہدایت کا زمانہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا پہلا زمانہ تھا اور تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ آپ کا دوسرا زمانہ ہے جبکہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ٤) کا وقت آنے والا ہے وہ وقت اب ہے یعنی میرا زمانہ یعنی مسیح موعود کا زمانہ اس لئے اللہ تعالیٰ نے تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کے زمانوں کو بھی اس طرح پر ملایا ہے اور یہ بھی عظیم الشان جمع ہے اور پھر یہ بھی وعدہ ہے کہ سارے ادیان کو جمع کیا جاوے گا اور ایک دین کو غالب کیا جاوے گا یہ بھی مسیح موعود کے وقت کی ایک جمع ہے کیونکہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) مفسروں نے مان لیا ہے کہ مسیح موعود ہی کے وقت میں ہوگا۔ پھر یہ بھی کہ وہ امن کا زمانہ ہو گا کہ بھیڑیا اور بھیٹر ایک گھاٹ پر پانی پیئیں گے جیسا کہ اس وقت نظر آتا ہے ہمارے مخالفوں نے ہمارے قتل کے کس قدر منصوبے کئے مگر وہ کیوں کامیاب نہ ہو سکے