ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 402

ملفوظات حضرت مسیح موعود لے منتر بنانا نہیں چاہتے ۔ اے لد ١٠ جلد دوم عالم آخرت کی حقیقت جانا چاہیے کہ عالم آخرت در حقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے ۔ اللہ جل شانه فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلى بنى اسراءیل: ۷۳) یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اُس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ ہمیں اس تمثیلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے اور ذرا سوچنا چاہیے کہ کیونکر روحانی امور عالم رویا میں متمثل ہو کر نظر آجاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ وجود عدم غیبت حس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ اسی دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات ان میں سے مقدس لوگ باذنه تعالی آئندہ کی خبریں دیتے ہیں اور وہ خبریں مطابق واقعہ نکلتی ہیں۔ بسا اوقات عین بیداری میں ایک شربت یا کسی قسم کا میوہ عالم کشف سے ہاتھ میں آتا ہے اور وہ کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے اور ان سب امور میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے۔ کشف کی اعلیٰ قسموں میں سے یہ ایک قسم ہے کہ بالکل بیداری میں واقع ہوتی ہے اور یہاں تک اپنے ذاتی تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شیریں طعام یا کسی قسم کا میوہ یا شربت غیب سے نظر کے سامنے آ گیا ہے اور وہ ایک غیبی ہاتھ سے منہ میں پڑتا جاتا ہے اور زبان کی قوت ذائقہ اس کے لذیذ طعم سے لذت اٹھاتی جاتی ہے اور دوسرے لوگوں سے باتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حواس ظاہری بخوبی اپنا اپنا کام دے رہے ہیں اور یہ شربت یا میوہ بھی کھایا جا رہا ہے اور اس کی لذت اور حلاوت بھی ایسی ہی کھلی کھلی طور پر معلوم ہوتی ہے بلکہ وہ لذت اس لذت سے نہایت الطف ہوتی ہے اور یہ ہرگز نہیں کہ وہ وہم ہوتا ہے یا الحکم جلدے نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱ تا ۳