ملفوظات (جلد 2) — Page 400
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۔۔ جلد دوم وقت دیا گیا تھا اور قرآن شریف جیسی لا نظیر کتاب آپ کو ملی اسی طرح پر اسی رنگ میں آپ کی اس بروزی آمد میں بھی کلام کا نشان دیا گیا دیکھ لوکس قدر تحدی کے ساتھ غیرت دلانے والے الفاظ میں مقابلہ کے واسطے بلایا گیا ہے مگر کسی کو ہمت اور حوصلہ بھی نہیں ہوتا۔ خدا تعالیٰ نے ان کی ہمتوں کو سلب کر لیا ہے اور ان کے علوم اور قابلیتوں کو چھین لیا۔ باوجود یکہ یہ لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور اپنے علوم کی لاف زنیاں کرتے تھے مگر اس مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے ان سب کو ذلیل اور شرمندہ کیا۔ اللہ دوسرا بڑا عظیم الشان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شق القمر تھا اور شق القمر معجزہ شق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے ہوا ۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے کسوف خسوف کا ایک نشان دکھایا اور یہ مسیح موعود اور مہدی کے لیے مخصوص تھا اور ابتدائے دُنیا سے کبھی اس رنگ میں یہ نشان نہیں دکھایا گیا تھا۔ یہ صرف مسیح موعود ہی کے زمانہ کے لیے رکھا گیا تھا اور احادیث میں آیات مہدی میں سے اُسے قرار دیا گیا ہے جس کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ میرے ہی نام پر آئے گا۔ اس میں یہی نکتہ ہے کہ جونشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے تھے اس رنگ کے نشان یہاں بھی دیئے جانے ضروری تھے کیونکہ یہ آمد آپ ہی کی ہے۔ ضرورت اعجاز غرض قرآن شریف پڑوں غور خوض بڑوں محو و اثبات اپنے اندر زندگی کی روح رکھتا ہے اور بڑوں کسی نسبتی لحاظ یا مقابلہ کے وہ مستقل اعجاز ہے اور اس وقت جو اعجاز کلام دیا گیا ہے یہ گویا اُسی اعجاز کو اس طرح پر دکھایا گیا ہے جیسے ایک عمارت کو ایک نقشہ کے رنگ میں دکھایا جاتا ہے اور ایک شیشہ کو دوسرے شیشہ میں دکھا یا جاوے ۔ مسلمانوں کے لیے یہ امر کس قدر رنج کا موجب ہوتا اگر یہ مان لیا جاتا کہ کوئی خوارق اور نشانات اُن کو نہیں دیئے گئے کیونکہ پچھلے نشانات آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے بطور کہانی کے ہو جاتے ہیں اور انسانی فطرت تو تازہ بتازہ نشانات دیکھنا چاہتی ہے ۔ مجھے ان خشک موحدوں پر افسوس ہی آتا ہے جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب خوارق کا کوئی نشان نہیں اور نہ ان کی ضرورت ہے۔ خشک زندگی سے تو مرنا بہتر ہے۔ اگر