ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 389

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۹ جلد دوم خارقے کز ولی مسموع است معجزه آن نبی متبوع است آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خوارق اور معجزات اس لئے جس قدر یہ نشانات اور آیات یہاں ظاہر ہو رہی ہیں یہ در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے خوارق اور معجزات اور یہ پیشگوئیاں قرآن شریف ہی کی پیشگوئیاں ہیں کیونکہ آپ ہی کی اتباع اور قرآن شریف ہی کی تعلیم کے ثمرات ہیں اور اس وقت کوئی اور مذہب ایسا نہیں ہے جس کا پیرو اور متبع یہ دعویٰ کر سکتا ہو کہ وہ پیشگوئیاں کر سکتا ہے یا اس سے خوارق ا کا ظہور ہوتا ہے اس لئے اس پہلو سے قرآن شریف کا معجزہ تمام کتابوں کے اعجاز سے بڑھا ہوا ہے۔ پھر ایک اور پہلو فصاحت بلاغت کا ہے۔ قرآن شریف کی فصاحت بلاغت ایسی اعلیٰ درجہ کی اور مسلّم ہے کہ انصاف پسند دشمنوں کو بھی اسے ماننا پڑا ہے قرآن شریف نے فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مثله (البقرۃ: ۲۴) کا دعوی کیا لیکن آج تک کسی سے ممکن نہیں ہوا کہ اس کی مثل لا سکے۔ عرب جو بڑے فصیح و بلیغ بولنے والے تھے اور خاص موقعوں پر بڑے بڑے مجمع کرتے اور ان میں اپنے قصائد سناتے تھے وہ بھی اس کے مقابلے میں عاجز ہو گئے ۔ اور پھر قرآن شریف کی فصاحت بلاغت ایسی نہیں ہے کہ اس میں صرف الفاظ کا تتبع کیا جاوے اور معانی اور مطالب کی پروا نہ کی جاوے بلکہ جیسا اعلیٰ درجہ کے الفاظ ایک عجیب ترتیب کے ساتھ رکھے گئے ہیں اسی طرح پر حقائق اور معارف کو ان میں بیان کیا گیا ہے اور یہ رعایت انسان کا کام نہیں کہ وہ حقائق اور معارف کو بیان کرے اور فصاحت و بلاغت کے مراتب کو بھی ملحوظ رکھے۔ ایک جگہ فرماتا ہے يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيِّمة ( البينة : ۳، ۴) یعنی ان پر ایسے صحائف پڑھتا ہے کہ جن میں حقائق و معارف ہیں۔ انشاء والے جانتے ہیں کہ انشاء پردازی میں پاکیزہ تعلیم اور اخلاق فاضلہ کو ملحوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے اور پھر ایسی مؤثر اور جاذب تو اور جاذب تعلیم دینا جو صفات رذیلہ کو دور کر کے بھی دکھا دے اور ان کی جگہ اعلیٰ درجہ کی خوبیاں پیدا کر دے۔ عربوں کی جو