ملفوظات (جلد 2) — Page 387
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۷ جلد دوم سلسلہ کی اور اس وقت کے آثار و علامات کی پیشگوئیاں کیسی عظیم الشان اور لانظیر ہیں۔ دنیا کی کسی کتاب کی پیشگوئیوں کو پیش کرو کیا مسیح کی پیشگوئیاں ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں جہاں صرف اتنا ہی ہے کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے آندھیاں آئیں گی مرغ بانگ دے گا وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی معمولی باتیں تو ہر ایک شخص کہہ سکتا ہے اور یہ حوادثات ہمیشہ ہی ہوتے رہتے ہیں پھر اس میں غیب گوئی کی قوت کہاں سے ثابت ہو۔ اس کے مقابلہ میں قرآن شریف کی پیشگوئی دیکھو الم - غُلِبَتِ الرُّومُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ - فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (الروم : ۲ تا ۵ ) میں اللہ بہت جاننے والا ہوں ۔ رومی اپنی سرحد میں اہل فارس سے مغلوب ہو گئے ہیں اور بہت ہی جلد چند سال میں یقیناً غالب ہونے والے ہیں پہلے اور آئندہ آنے والے واقعات کا علم اور ان کے اسباب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں جس دن رومی غالب ہوں گے وہی دن ہوگا جب مومن بھی خوشی کریں گے۔ اب غور کر کے دیکھو کہ یہ کیسی حیرت انگیز اور جلیل القدر پیشگوئی ہے ایسے وقت میں یہ پیشگوئی کی گئی جب مسلمانوں کی کمزور اور ضعیف حالت خود خطرہ میں تھی نہ کوئی سامان تھا نہ طاقت تھی ایسی حالت میں مخالف کہتے تھے کہ یہ گروہ بہت جلد نیست و نابود ہو جائے گا مدت کی قید بھی اس میں لگادی اور پھر يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ کہہ کر دو ہری پیشگوئی بنادی یعنی جس روز رومی فارسیوں پر غالب آئیں گے اسی دن مسلمان بھی با مراد ہو کر خوش ہوں گے۔ چنانچہ جس طرح پر یہ پیشگوئی کی تھی اسی طرح بدر کے روز یہ پوری ہوگئی ادھر رومی غالب ہوئے اور ادھر مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔ اسی طرح سورہ یوسف میں ایتُ لِلسَّابِلِین کہہ کر اس سارے قصہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے۔ غرض جہاں تک دیکھا جاوے قرآن شریف کی پیشگوئیاں بڑے اعلیٰ درجہ پر واقع ہوئی ہیں اور کوئی کتاب اس رنگ میں ان پیشگوئیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پیشگوئیاں یہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پوری ہو گئی تھیں بلکہ ان کا سلسلہ برابر جاری ہے چنانچہ بہت سی