ملفوظات (جلد 2) — Page 381
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۱ جلد دوم کیا با عتبار ثمرات تعلیم ۔ غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی یعنی جس پہلو سے چاہو مقابلہ کرو خواہ بلحاظ فصاحت و بلاغت ، خواه بلحاظ مطالب و مقاصد خواه بلحاظ تعلیم ، خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہے غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے گو ملاں میری مخالفت کی وجہ سے اس امر کو قبول نہ کریں لیکن اس سے قرآن شریف کے اعجاز میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ یہ لوگ جوش تعصب میں بعض وقت یہاں تک اندھے ہو جاتے ہیں کہ ادب کے کل طریقوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ لودہانہ کے مہر کے مباحثہ میں لَهُ ظَهَرُ وَ بَطَن میں نے پیش کیا تو مولوی محمد حسین صاحب کو جوش آگیا اور راوی کی مخالفت شروع کر دی ۔ کیا خدا کے کلام سے محبت اور ارادت کا یہی تقاضا ہونا چاہیے تھا یا درکھو الطَّرِيقَةُ كُلُّهُ اَدب اگر اس کو اگر اس کو درست نہ سمجھتا تھا تو قرآن شریف کی محبت کی وجہ سے اس قدر مخالفت بھی تو جائز نہ تھی۔ قرآن شریف زندہ اعجاز ہے اور الغرض قرآن شریف ایک کامل اور زندہ اعجاز ہے اور کلام کا معجزہ ایسا معجزہ ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی میں بھی اسی زمانہ میں ویران نہیں ہوسکتا اور نہ فنا کا ہاتھ اس پر چل سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا اگر آج نشان دیکھنا چاہیں تو کہاں ہیں؟ کیا یہودیوں کے پاس وہ عصا ہے؟ اور اس میں کوئی قدرت اس وقت بھی سانپ بننے کی موجود ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض جس قدر معجزات کل نبیوں سے صادر ہوئے ان کے ساتھ ہی ان معجزات کا بھی خاتمہ ہو گیا مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ایسے ہیں کہ وہ ہر زمانہ میں اور ہر وقت تازہ بتازہ اور زندہ موجود ہیں۔ ان معجزات کا زندہ ہونا اور ان پر موت کا ہاتھ نہ چلنا صاف طور پر اس پرموت کا پراس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی زندہ نبی ہیں اور حقیقی زندگی یہی ہے جو آپ کو عطا ہوئی ہے اور کسی دوسرے کو نہیں ملی۔ آپؐ کی تعلیم اس لئے زندہ تعلیم ہے کہ اس کے ثمرات اور برکات اس وقت بھی ویسے ہی موجود ہیں جو آج سے تیرہ سو سال پیشتر موجود تھے دوسری کوئی تعلیم