ملفوظات (جلد 2) — Page 372
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۲ جلد دوم اور ان کی تکمیل اور نشوونما کے لئے ایک خطرناک روک پیدا کر دیتا ہے جب کہ وہ انسان کو خدا بنا کر اس کے خون پر نجات کا انحصار رکھ دیتا ہے۔ پس میں جو بات آپ کو پہنچانا چاہتا تھا وہ یہی ہے کہ میں انسان کو گناہ سے بچنے کا حقیقی ذریعہ بتاتا ہوں اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرنے کی راہ دکھاتا ہوں یہی میرا مقصد ہے جس کو لے کر میں دنیا میں آیا ہوں ۔ میری دلی خواہش ہے کہ آپ اس کو سمجھ لیں اور خوب غور سے سمجھ لیں تا کہ جہاں کہیں آپ جائیں اور اپنے دوستوں میں بیٹھ کر اپنے سفر کے عجائبات سنائیں وہاں ان کو یہ باتیں بھی بتائیں جو میں نے آپ کو سنائی ہیں ۔ مسٹر ڈکسن۔ میں نے آپ کا مدعا خوب سمجھ لیا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں کہیں میں جاؤں گا میں یوروپین لوگوں میں اس کا تذکرہ کروں گا ۔ حضرت اقدس ۔ ہم نے تو آپ کا چہرہ دیکھ کر ہی سمجھ لیا تھا کہ آپ میں انصاف ہے ہماری دلی آرزو یہی تھی کہ آپ کچھ دنوں ہمارے پاس رہ جاتے تا کہ ہمیں پورا موقع ملتا کہ اپنے اصول آپ کو سمجھائیں اور آپ کو بھی غور کرنے اور بار بار پوچھنے کا موقع ملتا مگر تا ہم ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی غور کرنے والی طبیعت ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھائے گی ۔ انسان کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نمونہ یہی ہے کہ وہ راستی کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت طیار رہے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں کہ انسان محض ماں باپ کی تقلید کی وجہ سے باوجود یکہ ان میں صریح نقص دیکھتا ہے نہیں چھوڑتا۔ لیکن جو شخص سچے اخلاق اور اخلاقی جرات سے حصہ رکھتا ہے وہ ان باتوں کی کچھ پروانہیں کرتا وہ صرف راستی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ بچپن میں دو قو تیں بڑی تیز ہوتی ہیں اوّل ہر ایک چیز اندر چلی جاتی ہے دوم خوب یا د رہتی ہے۔ بچہ کبھی دلائل نہیں پوچھتا کہ کیوں یہ بات ہے مگر اصل شجاعت یہی ہے کہ ان باتوں کو جو شیر مادر کی طرح پیتا ہے جب اسے معلوم ہو جاوے کہ ان میں حقیقت اور معرفت کا رنگ اور قوت نہیں ہے تو انہیں چھوڑنے کے لئے فی الفور طیار ہو جاوے۔ تمام قومی کا بادشاہ انصاف ہے اگر یہ قوت ہی