ملفوظات (جلد 2) — Page 368
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۸ جلد دوم اپنے وجود ہی کی ناپا کی ہے جو عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح بہشت کی راحت کا اصل سرچشمہ بھی انسان کے اس بہشت کی نعماء کی حقیقت اپنے کی اپنے ہی افعال ہیں ۔ اگر وہ فطرتی دین کو نہیں چھوڑتا، اگر وہ مرکز اعتدال سے اِدھر اُدھر نہیں ہٹتا اور عبودیت الوہیت کے محاذ میں پڑی ہوئی اس کے انوار سے حصہ لے رہی ہے تو پھر یہ اس عضو صحیح کی طرح ہے جو مقام سے ہٹ نہیں گیا اور برابر اس کام کو دے رہا ہے جس کے لئے خدا نے اس کو پیدا کیا ہے اور اسے کچھ بھی درد نہیں بلکہ راحت ہے۔ قرآن شریف میں فرمایا ہے وَ بَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ ( البقرة : ۲۶) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو خوشخبری دے دو کہ وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہیں ۔ اس آیت میں ایمان کو اللہ تعالیٰ نے باغ سے مثال دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے جو رشتہ اور تعلق نہر جاربہ نہر جاریہ اور درخت میں ہے وہی رشتہ اور تعلق اعمال صالحہ کو ایمان سے ہے پس جیسے کوئی باغ ممکن ہی نہیں کہ پانی کے بدوں سرسبز اور شمر دار ہو سکے اسی طرح پر کوئی ایمان جس کے ساتھ اعمال صالحہ نہ ہوں مفید اور کارگر نہیں ہو سکتا۔ پس بہشت کیا ہے وہ ایمان اور اعمال ہی کے مجسم نظارے ہیں وہ بھی دوزخ کی طرح کوئی خارجی چیز نہیں ہے بلکہ انسان کا بہشت بھی اس کے اندر ہی سے نکلتا ہے ۔ یاد رکھو کہ اس جگہ پر جو راحتیں ملتی ہیں وہ وہی پاک نفس ہوتا ہے جو دنیا میں بنایا جاتا ہے۔ پاک ایمان پودہ سے مماثلت رکھتا ہے اور اچھے اچھے اعمال اخلاق فاضلہ یہ اس پودہ کی آبپاشی کے لئے بطور نہروں کے ہیں جو اس کی سرسبزی اور شادابی کو بحال رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں تو یہ ایسے ہیں جیسے خواب میں دیکھے جاتے ہیں مگر اس عالم میں محسوس اور مشاہد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لکھا ہے کہ جب بہشتی ان انعامات سے بہرہ ور ہوں گے تو یہ کہیں گے ھذا الَّذِی رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَاتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ( البقرة : ۲۶) اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ دنیا میں جو دودھ یا شہد یا انگور، اناروغیرہ چیزیں ہم کھاتے پیتے ہیں وہی وہاں ملیں گی نہیں وہ چیزیں اپنی نوعیت اور حالت کے