ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 357

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۷ جلد دوم تک ہی اس گناہ کے سیلاب کو محدود نہیں کرتا، میں صاف کہتا ہوں اس وقت دنیا کی ساری قو میں اس زہر کو کھا رہی ہیں اور ہلاک ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں نے باوجود یکہ ان کے پاس ایک روشن کتاب تھی اور اس میں کسی کے خون کے ذریعہ ان کو گناہ سے پاک کرنے کا وعدہ دے کر آزاد نہیں کیا گیا تھا لیکن وہ بھی خطرناک طور پر اس بلا میں مبتلا ہیں۔ ہندوؤں کو دیکھو ان میں بھی یہی بلا موجود ہے یہاں تک کہ ان میں سے بعض قوموں نے جیسے آریہ ہیں نیوگ جیسے مسئلہ کو اپنے ایمانیات اور معتقدات میں داخل کر لیا کہ ایک مرد جب کہ اولاد پیدا کرنے کے ناقابل ہو تو وہ اپنی بیوی کو دوسرے سے اولاد پیدا کرنے کی اجازت دے دے۔ خدا کی ہستی کے متعلق ذاتی تجربہ غرض اس قم کی نا پاک زندگی جو حقیقت میں گناہ کی لعنت ہے وہ عام ہو رہی ہے اور وہ پاک زندگی جو گناہ سے بیچ کر ملتی ہے وہ ایک لعل تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے ہاں خدا تعالیٰ نے وہ لعل تاباں مجھے دیا ہے اور مجھے اس نے مامور کیا ہے کہ میں دنیا کو اس لعل تاباں کے حصول کی راہ بتادوں۔ اس راہ پر چل کر میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقیناً یقینا اس کو حاصل کرلے گا اور وہ ذریعہ اور وہ راہ جس سے یہ ملتا ہے ایک ہی ہے جس کو خدا کی سچی معرفت کہتے ہیں۔ در حقیقت یہ مسئلہ بڑا مشکل اور نازک مسئلہ ہے کیونکہ ایک مشکل امر پر موقوف ہے فلاسفر جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتا تا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہیے مگر ابلغو کرکے بتاتا ہے کہ مقام پر لے جاتا ہوں اور اپنے ذاتی تجربوں کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا ہے۔ اب اس میں صریح فرق ہے مگر یہ فرق تب ہی نظر آ سکتا ہے جب آنکھ صاف ہوا ایسی صاف آنکھ کے عطا ہونے پر انسان بنی نوع کے حقوق اور خدا کے حقوق میں تمیز کر کے انہیں محفوظ کر لیتا ہے اور یہ وہی آنکھ ہے جس کو خدا کے دیکھنے کی آنکھ کہتے ہیں اس آنکھ کے ملنے پر وہ پاک زندگی شروع ہوتی ہے اور گناہوں سے بچنے کا یہ ذریعہ تو کسی حالت میں درست نہیں ہو سکتا کہ کسی دوسرے کو سزا ملے اور ہمارے گناہ معاف ہو جائیں۔ زید کو پھانسی ملے اور بکر بچ جاوے کیونکہ اس کے ابطال پر یہی دلیل