ملفوظات (جلد 2) — Page 29
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹ جلد دوم کرتے ہیں اور پھر لمبی چوڑی دعا شروع کرتے ہیں حالانکہ وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے کے لئے ملا تھا اس کو صرف ایک رسم اور عادت کے طور پر جلد جلد ختم کرنے میں گزار دیتے ہیں اور حضور الہی سے نکل کر دعا مانگتے ہیں ۔ نماز میں دعا مانگو۔ نماز کو دعا کا ایک وسیلہ اور ذریعہ سمجھو۔ فاتحة - فتح کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ مومن کو مومن اور کافر کو کافر بنا دیتی ہے۔ یعنی دونوں میں ایک امتیاز پیدا کر دیتی ہے اور دل کو کھولتی، سینہ میں ایک انشراح پیدا کرتی ہے اس لئے سورۂ فاتحہ کو بہت پڑھنا چاہیے اور اس دعا پر خوب غور کرنا ضروری ہے۔ انسان کو واجب ہے کہ وہ ایک سائل کامل اور محتاج مطلق کی صورت بناوے اور جیسے ایک فقیر اور سائل نہایت عاجزی سے کبھی اپنی شکل سے اور کبھی آواز سے دوسرے کو رحم دلاتا ہے۔ اسی طرح سے چاہیے کہ پوری تضرع اور انتہال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عرض حال کرے۔ پس جب تک نماز میں تضرع سے کام نہ لے اور دعا کے لئے نماز کو ذریعہ قرار نہ دے نماز میں لذت کہاں۔ اپنی زبان میں دعا یہ ضروری بات نہیں یہ ضروری بات نہیں ہے کہ دعا ئیں عربی زبان میں کی جاویں چونکہ اصل غرض نماز کی تضرع اور انتہال ہے اس لئے چاہیے کہ اپنی مادری زبان میں ہی کرے۔ انسان کو اپنی مادری زبان سے ایک خاص انس ہوتا ہے اور وہ پھر اس پر قادر ہوتا ہے۔ دوسری زبان سے خواہ اس میں کسی قدر بھی دخل ہو اور مہارت کامل ہو، ایک قسم کی اجنبیت باقی رہتی ہے اس لئے چاہیے کہ اپنی مادری زبان ہی میں دعائیں مانگے ۔ موت سے بے فکرنہ وں کی کو کیا علم ہے کہ ظہر کے بعد صرکے وقت تک زندہ رہیں۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ یک وقت ہی دوران خون بند ہو کر جان نکل جاتی ہے۔ بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں ۔ وزیر محمد حسن خاں صاحب ہوا خوری کر کے آئے تھے اور خوشی خوشی زینہ پر چڑھنے لگے۔ ایک روزینہ چڑھے ہوں گے کہ چکر آیا، بیٹھ گئے ۔ ۔ نوکر نے کہا کہ میں سہارا دوں۔ کہا نہیں ۔ پھر دو تین زینہ چڑھے پھر چکر آیا اور اسی چکر کے ساتھ جان