ملفوظات (جلد 2) — Page 329
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۹ جلد دوم دوسرا علاج نہیں ہے اور وہ یہی ہے کہ خدا کی معرفت لوگوں کو حاصل ہو ۔ اور خدا کی معرفت کاملہ تمام سعادت مندیوں کا مدار خدا شناسی پر ہے اور نفسانی جذبات اور شیطانی محرکات سے روکنے والی صرف ایک ہی چیز ہے جو خدا کی حدود سے ن معرفت کا ملہ کہلاتی ہے جس سے پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے۔ وہ بڑا قادر ہے وہ ذُو الْعَذَابِ الشَّدِيدِ ہے۔ یہی ایک نسخہ ہے جو انسان کی متمردانہ زندگی پر ایک بھسم کرنے والی بجلی گراتا ہے۔ پس جب تک انسان امنت بالله کی ۔ ے نکل کر عرفت اللہ کی منزل میں قدم نہیں رکھتا اس کا گنا ہوں سے بچنا محال ہے اور یہ بات کہ ہم خدا کی معرفت اور اس کی صفات پر یقین لانے سے گناہوں سے کیونکر بچ جائیں گے ایک ایسی صداقت ہے جس کو ہم جھٹلا نہیں سکتے ۔ ہمارا روزانہ تجربہ اس امر کی دلیل ہے کہ جس شے سے انسان ڈرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا مثلاً جب کہ یہ علم ہو کہ سانپ ڈس لیتا ہے اور اس کا ڈسا ہوا ہلاک ہو جاتا ہے تو کون دانش مند ہے جو اس کے منہ میں اپنا ہاتھ دینا تو در کنار کبھی اس سوٹے کے نزدیک بھی جانا پسند کرے جس سے کوئی زہریلا سانپ مارا گیا ہو ۔ اسے خیال ہوتا ہے کہ کہیں اس کے زہر کا اثر اس میں باقی نہ ہو۔ اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ فلاں جنگل میں شیر ہے تو ممکن نہیں کہ وہ اس میں سفر کر سکے یا کم از کم تنہا جا سکے ۔ بچوں تک میں یہ مادہ اور شعور موجود ہے کہ جس چیز کے خطرناک ہونے کا ان کو یقین دلایا گیا ہے وہ اس سے ڈرتے ہیں ۔ پس جب تک انسان میں خدا کی معرفت اور گناہوں کے زہر کا یقین پیدا نہ ہو کوئی اور طریق خواہ وہ کسی کی خود کشی ہو یا قربانی کا خون نجات نہیں دے سکتا اور گناہ کی زندگی پر موت وارد نہیں کر سکتا۔ یقیناً یا درکھو کہ گناہوں کا سیلاب اور نفسانی جذبات کا دریا بجز اس کے رک ہی نہیں سکتا کہ ایک چمکتا ہوا یقین اس کو حاصل ہو کہ خدا ہے اور اس کی تلوار ہے جو ہر ایک نافرمان پر بجلی کی طرح گرتی ہے جب تک یہ پیدا نہ ہو گناہ سے بچ نہیں سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ نافرمانوں کو سزا دیتا ہے مگر گناہ ہم سے دور نہیں ہوتے؟ میں جواب میں یہی کہوں گا کہ یہ جھوٹ ہے اور نفس کا مغالطہ ہے سچے ایمان اور سچے یقین اور گناہ میں باہم عداوت ہے جہاں سچی معرفت