ملفوظات (جلد 2) — Page 326
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۶ جلد دوم علم ہو بلکہ بعض صوفیوں نے لکھا ہے کہ جب مومن خدا تعالی کے ساتھ شدت ارتباط اور محبت کی وجہ سے گوشہ تنہائی میں اپنی مناجات کر رہا ہو اس وقت کوئی اس کو دیکھ لے تو وہ اس سے زیادہ شرمندہ ہوتا ہے جیسے کوئی زنا کار عین زنا کاری کے وقت پکڑا جاوے۔ پس ریا سے بچنا چاہیے اور اپنے ہر قول و فعل کو اس سے محفوظ رکھنا چاہیے۔ لے نجات کی حقیقت فرمایا۔ ایک ضروری اور غور طلب سوال ہے جس کو کل دنیا کی قوموں اور سب مذہبوں نے اپنی اپنی جگہ پر محسوس کیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ انسان کیوں کر بیچ سکتا ہے؟ یہ سوال حقیقت میں ہر ایک انسان کے اندر سے پیدا ہوتا ہے جب کہ وہ دیکھتا ہے کہ کس طرح پر نفس بے قابو ہو ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کے خیالات فاسدہ بدکاری کے آ آ کر اس کو گھیر لیتے ہیں۔ ان گناہوں سے بچنے کے واسطے ہر قوم نے کوئی نہ کوئی ذریعہ قرار دیا ہے اور کوئی حیلہ نکالا ہے۔ عیسائیوں نے اس عام ضرورت اور سوال سے فائدہ اٹھا کر ایک حیلہ پیش کیا ہے کہ مسیح کا خون نجات دیتا ہے۔ سب سے اول یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نجات ہے کیا چیز؟ نجات کی حقیقت تو یہی ہے کہ انسان گناہوں سے بچ جاوے اور جو فاسقانہ خیالات آ آکر دل کو سیاہ کرتے ہیں ان کا سلسلہ بند ہو کر سچی پاکیزگی پیدا ہو ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں نے گناہ سے بچنے کی ضرورت کو تو محسوس کیا اور اس سے فائدہ اٹھا کر نجات طلب لوگوں کے سامنے یہ پیش کر دیا کہ مسیح کا خون ہی ہے جو گنا ہوں سے بچا سکتا ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اگر مسیح کا خون یا کفارہ انسان کو گناہوں سے بچا سکتا ہے تو سب سے پہلے ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کفارہ میں اور گناہوں سے بچنے میں کوئی رشتہ بھی ہے یا نہیں؟ جب ہم غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں میں باہم کوئی رشتہ اور تعلق نہیں مثلاً اگر ایک مریض استسقا کا کسی طبیب کے پاس آوے تو طبیب اس کا علاج کرنے کے بجائے اسے یہ کہہ دے تو میری کتاب کا الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ صفحه ۲۰۱