ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 318

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۸ جلد دوم کتابوں میں پائے جاتے ہیں کیونکہ جب تک وہ ساری باتیں جو ان کی انسانیت کے اثبات پر گواہ ناطق ہیں پیش نہ کی جاویں خیالی طور پر جو کچھ ان کے مراتب میں غلو کیا گیا ہے اس کا استیصال نہ ہوگا اور یہ جوش خدا تعالیٰ نے مجھے محض اس لئے دیا ہے کہ میں دیکھتا ہوں اس اطراء کا نتیجہ بہت برا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی اور خدا تعالیٰ کے جلال و جبروت کی کچھ بھی پروانہیں کی گئی اس لئے یہ سلسلہ میں سمجھتا ہوں بہت مفید ہوگا ۔ چونکہ انهَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ہماری نیت نیک ہے اس لئے وہ واقعات جو ہم اس میں درج کریں گے اس لئے نہیں ہوں گے کہ ہم خدا نخواستہ ان کی توہین کرتے ہیں بلکہ صرف اس لئے کہ ان کی انسانیت ان کو دی جائے بلکہ ہم ان اعتراضوں کو جو یہودیوں اور فری تھنکروں نے ان پر کئے ہیں درج کر کے خودان کا جواب دیں گے۔ اس کے بعد چونکہ اذان ہو چکی تھی ۔ نماز مغرب ادا کی گئی۔ بعد نماز مغرب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ اعجاز لمسیح کی تصنیف یہ کتاب جو میں لکھ رہا ہوں خدا تعالی کی طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہو گی چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہوئی ہے کہ اُجیب كُلَّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَكَائِكَ ۔ اس لئے مجھے پورا بھروسا اور یقین ہے کہ میری دعا ئیں کل دنیا سے زیادہ قبول ہوتی ہیں اور اسی لئے یہ کتاب ایک نشان ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا۔ ہماری جماعت کے ہاتھ میں یہ زبردست نشان ہوگا۔ میں عربوں کے دعوئی ادب وفصاحت و بلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں ۔ یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہلِ زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں ۔ ان کے قلم توڑ دیئے جاویں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہے تو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ نا واقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتا ہیں لکھائی جاتی ہیں ۔ اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح بلیغ کتاب اور ایسے حقائق و معارف سے پر لکھ سکتا ہے۔ جو کتا ہیں یہ ادب و انشاء کا دعوی کرنے