ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 26

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶ جلد دوم سے مامور ہو کر آیا ہے۔ اگر کوئی شخص خبث کو نہیں چھوڑتا تو کیا ہم اندھے ہیں؟ منافق کے دل کی بدبو نہیں سونگھتے ؟ ہم انسان کو فوراً تاڑ جاتے ہیں کہ اس کی بات اس بنا پر ہے۔ پس یاد رکھو! خدا نے یہی راہ پسند کی ہے جو میں بتاتا ہوں اور یہ اقرب راہ اُسی نے نکالی ہے۔ دیکھو! جو ریل جیسی آرام دہ سواری کو چھوڑ کر ایک لنگڑے مریل ٹو پر سوار ہوتا ہے، وہ منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔ افسوس! یہ لوگ خدا کی باتوں کو چھوڑ کر زید ، بکر کی باتوں پر مرتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ وہ حدیثیں کس نے دی ہیں؟ میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سر سے مسلمان بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں تو ان سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔ جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں ۔ مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں ۔ ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود او ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔ کے ر دسمبر ۱۹۰۰ء ارات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور یریقین فرمایا کل رات۔ ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین المدن اس شدت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیوں کر بسر ہو گی ۔ آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا کونِي بَرْدًا وَسَلَامًا اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ معا درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۴۱ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۰۰ ء صفحه ۱، ۲