ملفوظات (جلد 2) — Page 311
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۱ جلد دوم یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا۔ ٹھنڈے شربت ملیں گے یا تکلف کے کھانے ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے حالانکہ خود میزبان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچاتا ہے لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔ اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصول پر ہونی چاہیے تو عرض مطلب یہ ہے کہ اولاد کی خواہش صرف نیکی کے اصول پر ہونی چاہیے۔ اس لحاظ سے اور خیال سے نہ ہو کہ وہ ایک گناہ کا خلیفہ باقی رہے۔ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولا د دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے اور نہ کبھی مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ بڑے بڑے دنیا دار بنیں اور اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کرنا مور ہوں۔ غرض جو اولاد پر بیچ کرنا مور ہوں۔ غرض : معصیت اور فسق کی زندگی بسر کرنے والی ہو اس کی نسبت تو سعدی کا یہ فتوی ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ ع که پیش از پدر مرده به ناخلف پھر ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرماں بردار بنانے کی سعی اور فکر کریں نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مد نظر رکھتے ہیں ۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔ ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک لڑکا اپنے جرائم کی وجہ سے پھانسی پر لٹکایا گیا۔ اس آخری وقت میں اس نے خواہش کی کہ میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں۔ جب نے کی کہ میں سے ملنا اس کی ماں آئی تو اس نے ماں کے پاس جا کر اسے کہا کہ میں تیری زبان کو چوسنا چاہتا ہوں۔ جب اس نے زبان نکالی تو اسے کاٹ کھایا۔ دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ اسی ماں نے مجھے پھانسی پر چڑھایا