ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 301

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ جلد دوم دل میں ہو اور اس کی عظمت اور جبروت کی حکومت کے ماتحت انسان ہو پھر اس کو کسی دوسرے کی پروا کیا ہو سکتی ہے کہ وہ کیا کہتا ہے کیا نہیں ؟ ابھی اس کے دل میں لوگوں کی حکومت ہے نہ خدا کی ۔ جب یہ مشرکانہ خیال دل سے دور ہو جاوے پھر سب کے سب مُردے اور کیڑے سے بھی کمتر اور کمزور نظر آتے ہیں۔ اگر ساری دنیا مل کر بھی مقابلہ کرنا چاہے تو ممکن نہیں کہ ایسا شخص حق کو قبول کرنے سے رک جائے ۔ تبتل تام کا پورا نمونہ انبیاء علیہم السلام اور خدا کے ماموروں میں مشاہدہ کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح دنیا داروں کی مخالفتوں کے باوجود پوری بے کسی اور ناتوانی کے پروا تک نہیں کرتے ۔ اُن کی رفتار اور حالات سے سبق لینا چاہیے۔ بعض لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ ایسے لوگ جو بُرا نہیں کہتے مگر پورے طور پر اظہار بھی نہیں کرتے محض اس وجہ سے کہ لوگ برا کہیں گے کیا اُن کے پیچھے نماز پڑھ لیں؟ میں کہتا ہوں ہرگز نہیں ۔ اس لیے کہ ابھی تک اُن کے قبول حق کی راہ میں ایک ٹھوکر کا پتھر ہے اور وہ ابھی تک اسی درخت کی شاخ ہیں جس کا پھل زہریلا اور ہلاک کرنے والا ہے۔ اگر وہ دنیا داروں کو اپنا معبود اور قبلہ نہ سمجھتے تو ان سارے حجابوں کو چیر کر باہر نکل آتے اور کسی کے لعن طعن کی ذرا بھی پروانہ کرتے اور کوئی خوف شماتت کا انہیں دامن گیر نہ ہوتا بلکہ وہ خدا کی طرف دوڑتے ۔ پس یا د رکھو کہ تم ہر کام میں دیکھ لو کہ اس میں خدا راضی ہے یا مخلوق خدا۔ جب تک یہ حالت نہ ہو جاوے کہ خدا کی رضا مقدم ہو جاوے اور کوئی شیطان اور رہزن نہ ہو سکے اس وقت تک ٹھوکر کھانے کا اندیشہ ہے و وقت تک لیکن جب دنیا کی برائی بھلائی محسوس ہی نہ ہو بلکہ خدا کی خوشنودی اور ناراضگی اس پر اثر کرنے والی ہو یہ وہ حالت ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے خوف وحزن کے مقامات سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہماری جماعت میں شامل ہو کر پھر اس سے نکل بھی جاتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کا شیطان اس لباس میں ہنوز اس کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ عزم کرلے کہ آئندہ کسی وسوسہ انداز کی بات کوسنوں گا ہی نہیں تو خدا اسے بچا لیتا ہے۔ ٹھوکر لگنے کا عموماً یہی سبب ہوتا ہے کہ