ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 299 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 299

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۹ جلد دوم غرض عملی طور پر تقبل کی حقیقت تب ہی کھلتی ہے جب کہ ساری روکیں دور ہو جائیں اور ہر ایک قسم کے حجاب دور ہو کر محبت ذاتی تک انسان کا رابطہ پہنچ جاوے اور فناء اتم ایسی حاصل ہو جاوے۔ قیل و قال کے طور پر تو سب کچھ ہو سکتا ہے اور انسانی الفاظ اور بیان میں بہت کچھ ظاہر کر سکتا ہے مگر مشکل ہے تو یہ کہ عملی طور پر اسے دکھا بھی دے جو کچھ وہ کہتا ہے۔ یوں تو ہر ایک جو خدا کو ماننے والا ہے پسند بھی کرتا ہے اور کہہ بھی دیتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ خدا کو سب پر مقدم کروں اور مقدم کرنے کا مدعی بھی ہو سکتا ہے لیکن جب ان آثار اور علامات کا معائنہ کرنا چا ہیں جو خدا کو مقدم کرنے کے ساتھ ہی عطا ہوتے ہیں تو ایک مشکل کا سامنا ہوگا۔ بات بات پر انسان ٹھوکر کھاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی راہ میں جب اس مال اور جان کے دینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اُن سے اُن کی جانوں اور مالوں یا اور عزیز ترین اشیاء کی قربانی چاہتا ہے حالانکہ وہ اشیاء ان کی اپنی بھی نہیں ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ مضائقہ کرتے ہیں۔ ابتداء بعض صحابہ کو اس قسم کا ابتلا پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بناء مسجد کے واسطے زمین کی ضرورت تھی۔ ایک شخص سے زمین مانگی تو اس نے کئی عذر کر کے بتادیا کہ میں زمین نہیں دے سکتا ۔ اب وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ پر ایمان لایا تھا اور اللہ اور اس کے رسول کو سب پر مقدم کرنے کا عہد اس نے کیا تھا لیکن جب آزمائش اور امتحان کا وقت آیا تو اس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ گو آخر کا راس نے وہ قطعہ دے دیا۔ تو بات اصل میں یہی ہے کہ کوئی امر محض بات سے نہیں ہو سکتا جب تک عمل اس کے ساتھ نہ ہو اور عملی طور پر صحیح ثابت نہیں ہوتا جب تک امتحان ساتھ نہ ہو۔ ہمارے ہاتھ پر بیعت تو یہی کی جاتی ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا اور ایک شخص کو جسے خدا نے اپنا مامور کر کے دنیا میں بھیجا ہے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے۔ جس کا نام حکم اور عدل رکھا گیا ہے اپنا امام سمجھوں گا ۔ اس کے فیصلے پر ٹھنڈے دل اور انشراح قلب کے ساتھ رضا مند ہو جاؤں گا لیکن اگر کوئی شخص یہ عہد اور اقرار کرنے کے بعد بھی ہمارے کسی فیصلہ پر خوشی کے ساتھ رضا مند نہیں ہوتا بلکہ اپنے سینہ میں کوئی روک اور اٹک پاتا ہے تو یقیناً کہنا پڑے گا کہ اس نے پورا تقتل حاصل نہیں کیا اور وہ اس اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جو تقتل کا مقام کہلاتا ہے بلکہ اس کی راہ میں