ملفوظات (جلد 2) — Page 287
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۷ جلد دوم اپنا ز ہر بہت پھیلایا ہے۔ غور کر کے اس کے نتائج پر نظر کرو بجز اباحت کے اور کچھ معلوم نہیں دیتا۔ یہ لوگ صوم و صلوۃ کے پابند نہیں اور ہو بھی نہیں سکتے ۔ کیونکہ خدا سے ڈرنا جس پر نجات کا مدار اور اعمال کا انحصار ہے وہ ان میں نہیں ہے۔ بعض بالکل دہریوں کے رنگ میں ہیں ۔ غرض میں سچ کہتا ہوں کہ یہ فتنہ بھی منجملہ ان فتنوں کے جو اس وقت پھیلے ہوئے ہیں ایک سخت فتنہ ہے جس نے فسق و فجور کا دریا چلا دیا ہے اور اباحت اور دہریت کے دروازوں کو کھول دیا ہے۔ اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت زندہ ہوتے تو وہ ان کو دیکھ کر حیران ہوتے کہ یہ اسلام کہاں سے آیا۔ انسان کو کسی حالت میں مناسب نہیں ہے کہ وہ انسانیت کی حدود کو توڑ کر آگے نکل جاوے۔ کیا سچ کہا ہے و بزہد و ورع کوش و صدق و صفا لیکن میفزائے بر مصطفیٰ غرض یہ فرقہ دق کی طرح ہے ۔ ایک شخص الہ آباد میں تھا۔ اس نے مجھ سے خط و کتابت کی ۔ ایک دو مرتبہ کے خطوط کی آمد و رفت کے بعد وہ گالیوں اور بد زبانیوں پر اتر آیا۔ ان لوگوں میں تزکیہ نفس تو بڑی بات ہے عام اخلاقی حالت بھی اچھی نہیں ہوتی ۔ اصل یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ اور تزکیہ نفس کا مدار ہے تقوی اور خدا کا خوف جو بدقسمتی سے ان لوگوں میں نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود خدا تو بنے ہوئے ہوتے ہیں ۔ پس جب وہ انسانیت چھوڑ کر خدا بن گئے اور یہ ایک ثابت شدہ بات ہے کہ وہ خدا تو بن سکتے ہی نہیں ۔ پھر باقی یہی رہا کہ انسانیت چھوڑ کر شیطان بن گئے ۔ اس لئے وہ بہت جلد برافروختہ ہو جاتے ہیں اور جہاں تک ان لوگوں کے حالات کی تحقیق کرو گے ان میں اسلام کی پابندی ہرگز نہ نکلے گی۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ان میں صوم و صلوۃ کی پابندی نہیں ہوتی اس لئے کہ خشیت الہی نہیں ہوتی اور ہیبت اٹھ جاتی ہے۔ آخر کار دہریوں کے ساتھ نشست و برخاست شروع کرتے ہیں اور حدود الله کو توڑ کر بے قید ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ بڑا ہی خطرناک زہر ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت بایزید بسطامی یا خواجہ جنید بغدادی یا سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے کلمات میں ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں الیے الفاظ پائے جاتے ہیں