ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 279

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۹ جلد دوم کہہ سکتے ہیں جو خدا نے کہا ہے ۔ انبیاء کے کلام میں الفاظ کم ہوتے ہیں اور معانی بہت۔ فرمایا۔ جس قدر دعا ئیں ہماری قبول ہو چکی ہیں وہ پانچ ہزار سے کسی صورت میں کم نہیں ۔ شیطان مسیح موعود کے ہاتھوں ہلاک ہو گا فرمایا۔ شیطان نے آدم کو مارنے کا منصوبہ کیا تھا اور اس کا استیصال چاہا تھا۔ پھر شیطان نے خدا سے مہلت چاہی اور اس کو مہلت دی گئی اِلى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (الحجر: ٣٩) بسبب اس مہلت کے کسی نبی نے اس کو قتل نہ کیا۔ اس کے قتل کا وقت ایک ہی مقرر تھا کہ وہ مسیح موعود کے ہاتھ سے قتل ہو۔ اب تک وہ ڈاکؤوں کی طرح پھرتا رہا لیکن اب اس کی ہلاکت کا وقت آگیا ہے۔ رہا اب تک اختیار کی قلت اور اشرار کی کثرت تھی لیکن شیطان ہلاک ہو گا اور اختیار کی کثرت ہوگی اور اشرار چوڑھے چماروں کی طرح ذلیل بطور نمونہ کے رہ جائیں گے۔ اعمال کی دو قسمیں فرمایا۔ اعمال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو بہشت و دوزخ کی امید و بیم سے ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو سبع جو طبعی جوش سے ہوتے ہیں ۔ دو باتیں مسلمانوں میں طبعی جوش کے طور پر اب تک موجود ہیں ۔ ایک سور کے گوشت کی حرمت ۔ خواہ مسلمان کیسا ہی فاسق ہو سور کے گوشت پر ضرور غیرت دکھائے گا اور دوسرے حرمین شریفین کی عزت ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی قوم کو یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ حرمین پر ہاتھ ڈالنے کی دلیری کرے۔ اس بات کا ذکر ہوا کہ نیچری لوگ شیطان کے ہونے کے منکر ہیں ہیں۔ ۔ شیطان کا وجود حضرت نے فرمایا ۔ انسان کو اپنی حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔ احق بالامن وہی لوگ ہیں جو خدا کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی ماہیت و حقیقت کو حوالہ بخدا کرتے ہیں ۔ اب دیکھو چار چیزیں غیر مرئی بیان ہوئی ہیں۔ خدا ، ملائک ، ارواح ، شیطان ۔ یہ چاروں چیزیں لا يُدرك ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان میں سے خدا اور روح کو تو مان لیا جائے اور ملائک اور شیطان کا انکار کیا جائے ۔ اس انکار کا نتیجہ تو رفتہ رفتہ حشر اجساد کا انکار اور الہام کا انکار اور خدا کا انکار ہوگا اور ہوتا ہے۔ بسا مرتبہ انسان نیکی کا ارادہ