ملفوظات (جلد 2) — Page 270
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۰ جلد دوم d کوئی خادمانہ کام کیا اور اس طرح پر سمجھا دیا کہ آپ پیغمبر ہیں تب معلوم ہوا ۔ اے بعض وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑے بھی ہیں ایک مرتبہ آپ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہو گئے تا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا آگے نکل جائیں اور وہ آگے نکل گئیں اسی طرح پر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک بار کچھ حبشی آئے جو تماشہ کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا تماشہ دکھایا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے ۔ غرض جب انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو غور سے مطالعہ کرتا ہے تو اسے بہت کچھ پتہ ملتا ہے لیکن بعض احمق کور باطن ایسے بھی ہیں جو آپ کی زندگی پر تدبر تو کرتے نہیں اور اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولتے ہیں یہ حال عیسائیوں اور آریوں کا ہے۔ سنت اور بدعت میں فرق غرض اس وقت لوگوں نے سنت اور بدعت میں سخت غلطی کھائی ہوئی ہے اور ان کو ایک خطر ناک دھو کہ لگا ہوا ہے وہ سنت اور بدعت میں کوئی تمیز نہیں کر سکتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر خودا پنی مرضی کے موافق بہت سی راہیں خود ایجاد کر لی ہیں اور ان کو اپنی زندگی کے لئے کافی را ہنما سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ان کو گمراہ (اے ایڈیٹر ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سادگی بعینہ اس قسم کی ہے ۔ آپ سیر کو نکلتے ہیں تو کوئی تمیز نہیں ہوتی ایڈیٹر۔حضرت کہ کوئی آگے نہ بڑھے بلکہ بسا اوقات جلیل القدر اصحاب کو خیال پیدا ہوتا ہے کہ خاک اڑتی ہے اور حضرت اقدس پیچھے ہیں مگر حضرت حجة اللہ نے کبھی اس قسم کا خیال بھی نہیں فرمایا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیچھے سے ہیں اور اعلیٰ حضرت کو ٹھوکر لگ گئی ہے یا جوتی نکل گئی ہے یا چھڑی گر گئی ہے مگر کبھی کسی نے نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ آپ نے کوئی ملال ظاہر کیا ہو یا کسی خاص وضع کو پسند کیا ہو۔ مسجد میں بہت مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ آپ صحابہ کے زمرہ میں بیٹھے ہیں اور کوئی اجنبی آیا ہے تو اس نے بڑھ کر مولانا مولوی عبد الکریم صاحب یا حضرت حکیم الامت سے اوّل مصافحہ کیا اور حضرت مسیح آپ کو سمجھا تو ان بزرگوں نے زبان سے بتایا کہ حضرت صاحب یہ ہیں۔ غرض شانِ محمدی کا سارا نمونہ آپ میں نظر آتا ہے جس کو شک ہو وہ یہاں آکر اور رہ کر دیکھ لے۔)