ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 263

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۳ جلد دوم خواہ وہ محدثین کے نزدیک موضوع ہی ہوا اگر قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہو۔ ہم تو یہاں تک حدیث کی عزت کرتے ہیں لیکن اس کو قرآن پر قاضی اور حکم نہیں بنا سکتے ۔ آپ نے نہیں فرمایا کہ میں تم میں حدیث چھوڑتا ہوں بلکہ فرمایا کہ کتاب اللہ چھوڑتا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کہا حَسْبُنَا کتاب اللہ انہوں نے نہیں کہا کہ حدیث کافی ہے؟ کتاب اللہ کا فیصلہ اب کتاب اللہ کو کھول کر دیکھ لو وہ فیصلہ کرتی ہے پہلی ہی سورۃ کو پڑھو جو سورۃ فاتحہ ہے جس کے بغیر نماز بھی نہیں ہو سکتی ۔ دیکھو ! اس میں کیا تعلیم دی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ۶، ۷ ) اب صاف ظاہر ہے کہ اس دعا میں مغضوب اور ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا ہے۔ مغضوب سے بالاتفاق یہودی مراد ہیں اور ضالین سے عیسائی ۔ اگر اس امت میں یہ فتنہ اور فساد پیدا نہ ہونے والا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا غرض تھی؟ سب سے بڑا فتنہ تو اللہ مجال کا تھا مگر یہ نہیں کہا ولا الدجال کیا خدا تعالیٰ کو اس فتنہ کی خبر نہ تھی ؟ اصل یہ ہے کہ یہ دعا بڑی پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے۔ ایک وقت امت پر ایسا آنے والا تھا کہ یہودیت کا رنگ اس میں آجاوے گا۔ اور یہودی وہ قوم تھی جس نے حضرت مسیح کا انکار کیا تھا پس یہاں جو فرمایا کہ یہودیوں سے بچنے کی دعا کرو اس کا یہی مطلب ہے کہ تم بھی یہودی نہ بن جانا یعنی مسیح موعود کا انکار نہ کر بیٹھنا اور ضالین یعنی نصاری کی راہ سے بچنے کی دعا جو تعلیم کی تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت صلیبی فتنہ خطر ناک ہوگا اور یہی سب فتنوں کی جڑ اور ماں ہوگا ۔ دجال کا فتنہ اس سے الگ نہ ہو گا ورنہ اگر الگ ہوتا تو ضرور تھا کہ ۔ اس کا بھی نام لیا جاتا۔ اب سارے گرجوں میں جا کر دیکھو کہ کیا یہ فتنہ خطر ناک ہے یا نہیں؟ اسی طرح قرآن شریف کو غور سے پڑھو اور سوچو کہ کیا اس نے یہ وعدہ نہیں کیا۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ۱۰) اور پھر آیت استخلاف میں ایک خاتم الخلفاء کا وعدہ دیا گیا ان سب امور کو یکجائی نظر سے اس طرح پر دیکھو ! اوّل ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم نے توریت کی پیشگوئی کے موافق مثیل موسی اتسلیم