ملفوظات (جلد 2) — Page 259
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۹ جلد دوم اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں یہ اقرار کر لیا ہے کہ اہل کشف جو لوگ ہوتے ہیں وہ احادیث کی صحت کے لئے محدثین کے اصول تنقید احادیث کے پابند نہیں ہوتے بلکہ وہ بعض اوقات ایک صحیح حدیث کو ضعیف ٹھہرا سکتے ہیں یا ضعیف کو صحیح کیونکہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اطلاع پاتے ہیں۔ جب یہ بات ہے تو پھر مسیح موعود جو حکم ہو کر آئے گا کیا اس کو یہ حق نہ ہوگا کہ وہ احادیث کی صحت اس طریق پر کر سکے؟ کیا وہ خدا تعالیٰ سے فیض نہ پاسکے گا؟ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے محروم ہوگا ؟ اگر اس کو یہ مقدرت نہ ہوگی تو پھر بتاؤ کہ ایسا حکم کس کام اور م کام اور مصرف کا ہوگا ؟ اس لئے احادیث کو یہ لوگ جب مختلط کرنے لگیں تو اس امر کو کبھی بھولنا نہ چاہیے کہ قرآن اور سنت سے اس کو الگ کر لیا جاوے۔ ہمارے ضلع میں حافظ ہدایت علی صاحب ایک عہدہ دار تھے مجھے اکثر ان سے ملنے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ایک بار انہوں نے کہا کہ میں ان کتابوں کو جن میں مسیح اور مہدی کے آنے کا ذکر ہے دیکھ رہا تھا ان میں ہزاروں نشانیاں قائم کر رکھی ہیں چونکہ یہ ساری نشانیاں تو پوری ہونے سے رہیں اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ اس وقت جھگڑا ہی پڑے گا یہ لوگ اس وقت تک ماننے سے رہے جب تک وہ سارے نشان پورے نہ ہو لیں اور وہ نشان یک دفعہ پورے ہونے سے رہے۔ حقیقت میں ان کی فراست صحیح نکلی اس وقت وہی ہوا انکار ہی کیا گیا۔ پیشگوئیوں میں مجاز اور استعارات کا استعمال اصل بات یہی ہے جس کو میں نے بار با بیان کیا ہے کہ پیشگوئیوں کا بہت بڑا حصہ مجازات اور استعارات کا ہوتا ہے اور کچھ حصہ ظاہری رنگ میں بھی پورا ہو جاتا ہے۔ یہی ہمیشہ سے قانون چلا آیا ہے اس سے ہم تو انکار نہیں کر سکتے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اگر ساری حدیثیں پوری ہوتی ہیں یعنی جو سنیوں کی ہیں وہ بھی اور جو شیعوں کی ہیں وہ بھی علیٰ ہذا القیاس تمام فرقوں کی تو یقیناً یا درکھو کہ پھر نہ کبھی مسیح ہی آئے گا اور نہ مہدی ۔ دیکھو! میری ضرورت سے زیادہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی جب آپ تشریف لائے ۔ اب بتاؤ کہ کیا اس وقت سب نے آپ کو تسلیم کر لیا ؟ اور کیا وہ سارے نشانات جو توریت یا