ملفوظات (جلد 2) — Page 255
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۵ جلد دوم اور اس نے آکر فیصلہ کیا کہ ایلیا کی آمد سے یہ مراد ہے۔ اسی طرح پر حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے فراق میں چالیس سال تک روتے رہے آخر جا کر آپ کو خبر ملی تو کہا إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ ( یوسف : ۹۵) ورنہ اس سے پہلے آپ کا یہ حال ہوا کہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے وَ ابْيَضَتُ عَيْنَهُ ( یوسف: ۸۵) تک نوبت پہنچی اسی کے متعلق کیا اچھا کہا ہے۔ کیسے پرسید زاں گم کرده فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاه کنعانش نه دیدی؟! ابتلا اور آزمائش کی غرض یہ بیہودہ باتیں نہیں ہیں بلکہ جب سے نبوت کا سلسلہ جاری ہوا ہے یہی قانون چلا آیا ہے ۔ قبل از وقت ابتلا ضرور آتے ہیں تا کچوں اور پکوں میں امتیاز ہو اور مومنوں اور منافقوں میں بین فرق نمودار ہو اسی لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت : ۳) یہ لوگ یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا ہی کہنے پر نجات پا جائیں کہ ہم ایمان لائے اور ان کا کوئی امتحان نہ ہو۔ یہ کبھی نہیں ہوتا۔ دنیا میں بھی امتحان اور آزمائش کا سلسلہ موجود ہے جب دنیاوی نظام میں یہ کبھی ہوتا۔ دنیا میں اور کا نظیر موجود ہے تو روحانی عالم میں یہ کیوں نہ ہو؟ بغیر امتحان اور آزمائش کے حقیقت نہیں کھلتی ۔ آزمائش کے لفظ سے یہ کبھی دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو جو عالم الغیب اور يَعْلَمُ السِّرِّ وَالْخَفِی ہے امتحان یا آزمائش کی ضرورت ہے اور بدوں امتحان اور آزمائش کے اس کو کچھ معلوم نہیں ہوتا ایسا خیال کرنا نہ صرف غلطی بلکہ کفر کی حد تک پہنچتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان صفات کا انکار ہے۔ امتحان یا آزمائش سے اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ تا حقائق مخفیہ کا اظہار ہو جاوے اور شخص زیر امتحان الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱، ۲