ملفوظات (جلد 2) — Page 251
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۱ جلد دوم کے نزول کے متعلق جو پیشگوئیوں میں الفاظ آئے ہیں ان کو بالکل ظاہر ہی پر حمل کر لینا کونسی دانش مندی ہے؟ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یہ ظاہر پرستی سے کام لیتے ہیں اور ظن سے کام لیتے ہیں ۔ مگر یاد رکھیں کہ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (النجم : ۲۹) اور إِنَّ بَعْضَ الظَّن اثم (الحجرات : ۱۳) پس اگر بدظنی سے کام لیتے ہیں اور ظاہر معنوں ہی پر حمل کرتے ہیں تو پھر نا بینوں کو تو نجات سے جواب ہوگا ؟ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ کیوں ناحق ایک ایسی بات پر زور دیتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس کوئی یقینی ثبوت نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں کی زبان سے محض نا واقف ہیں اگر واقف ہوتے تو سمجھتے کہ پیشگوئیوں میں کس قدر استعارات سے کام لیا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ سونے کے کڑے پہنے ہوئے ہیں تو اس سے مراد جھوٹے نبی تھے اور جب آپ کو گائیوں کا ذبح ہونا دکھایا گیا تو اس سے مراد صحابہ کی شہادت تھی اور یہ کوئی خاص بات نہیں عام طور پر قانون الہی رویا اور پیشگوئیوں کے متعلق اس قسم کا ہے۔ دیکھو! حضرت یوسف کی رویا جو قرآن شریف میں ہے کیا اس سے سورج اور چاند اور ستارے مراد تھے؟ یا عزیز مصر کی رؤیا جس میں گائیاں دکھائی گئی تھیں اس سے فی الواقعہ گائیں مراد تھیں یا کچھ اور؟ اس قسم کی ایک دو نہیں ہزاروں ہزار شہادتیں ملتی ہیں۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ نزول المسیح کے معاملہ میں یہ لوگ ان کو بھول جاتے ہیں اور ظاہر الفاظ پر زور دینے لگتے ہیں ۔ ان معاملات میں اختلاف کی جڑ دو ہی باتیں ہوا کرتی ہیں کہ مجاز اور استعارہ کو چھوڑ کر اس کو ظاہر پر حمل کر لیا جاوے اور جہاں ظاہر مراد ہے وہاں استعارہ قرار دیا جاوے ۔ اگر پیشگوئیوں میں مجاز اور استعارہ نہیں ہے تو پھر کسی نبی کی نبوت کا ثبوت بہت مشکل ہو جاوے گا۔ عہد نامہ قدیم وجدید میں استعارات کا استعمال اور یہود کا ابتلا یہودیوں کو یہی مشکل اور آفت تو پیش آئی کیونکہ حضرت مسیح کے لیے لکھا تھا کہ اس کے آنے سے پہلے ایلیا آئے گا۔ چنانچہ ملا کی نبی کی کتاب میں یہ پیشگوئی بڑی صراحت سے درج ہے۔ یہودی اس پیشگوئی کے موافق منتظر تھے کہ ایلیا آسمان سے آوے لیکن جب مسیح آگیا اور ایلیا آسمان سے نہ اتر اتو وہ گھبرائے ۔ الحکم جلدے نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء۲، ۳