ملفوظات (جلد 2) — Page 247
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۷ جلد دوم وقت بھیجے گا جب صلیب کا غلبہ ہوگا جس سے مراد یہ ہے کہ صلیبی دین کا فتنہ بڑھا ہوا ہوگا۔ اس کی اشاعت اور توسیع کے لئے ہر ایک قسم کے حیلوں کو کام میں لایا جاوے گا اور دنیا میں وہ ظلم و زور جس کا دوسرے لفظوں میں شرک اور مردہ پرستی نام ہو سکتا ہے پھیلا یا جاوے گا اس وقت اللہ تعالیٰ جس شخص کو بھیجے گا اس کا کام یہی ہوگا کہ اس ظلم و زور سے دنیا کو پاک کرے اور مردہ پرستی اور صلیب پرستی کی لعنت سے دنیا کو بچائے اس طرح پر وہ صلیب کو توڑے گا ۔ بظاہر یہ تناقض معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کاموں میں سے يَضَعُ الْحَرْبَ بھی لکھا ہے کہ وہ لڑائیاں نہ کرے گا اور صلیب کے توڑنے میں لڑائیوں کی ضرورت ہے؟ یہ تناقض سطحی خیال کے آدمیوں کو نظر آتا ہے اور جنہوں نے مسیح موعود کی آمد اور بعثت کی غرض کو ہر گز نہیں سمجھا حالانکہ يَضَعُ الْحَرْبَ کا لفظ ہی کسر صلیب کی حقیقت کو بتاتا ہے کہ اس سے مراد جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے لکڑی یا دوسری چیزوں کی صلیبوں کو توڑنا نہیں بلکہ صلیبی ملت کی شکست ہے اور ملت کی شکست بینہ اور براہین سے ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ (الانفال : (۴۳) بہر حال ہمارے مخالف علماء جو مخالفت میں اس قدر غلو کرتے ہیں اگر ٹھنڈے دل سے اور خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا یقین رکھ کر ان باتوں کو سوچتے تو یقیناً ان کو اس کے سوا چارہ نہ ہوتا کہ وہ میرے پیچھے ہو لیتے ۔ وہ دیکھتے کہ صدا ۔ وہ دیکھتے کہ صدی کا سر آگیا بلکہ اس میں سے انیس سال گزرنے کو آگئے ہیں اور صدی پر مجدّد کا آنا ضروری ہے ورنہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب لازم آتی ہے ۔ عیسائیت کا عظیم فتنہ اور جب وہ نصاری کے فن پر نہ کرتے توان کونظر آتا کہ اس اور جب وہ نصاری کے فتنہ پر نظر کرتے تو ان کو نظر آتا کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی آفت اور فتنہ اسلام کے لئے کبھی پیدا نہیں ہوا ہے بلکہ جب سے نبوت کا سلسلہ شروع ہوا ہے ایسا خطر ناک فتنہ کبھی نہیں اٹھا۔ فلسفیانہ رنگ میں الگ طبی رنگ میں الگ مذہب پر زد ہے۔ ہر شخص جو کسی فن میں کسی علم میں کوئی دسترس رکھتا ہے وہ اسی پہلو سے اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مرد، عورتیں واعظ ہیں اور وہ مختلف تدابیر سے اسلام سے بیزاری پیدا کرنی چاہتے ہیں اور عیسائیت کی طرف لوگوں کو مائل کرتے ہیں ۔ شفا خانوں میں جاؤ تو دیکھو گے کہ دوا کے