ملفوظات (جلد 2) — Page 214
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۱۴ جلد دوم کیسے پر سید زاں پیر خرد مند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند ز مصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاه کنعانش ندیدی بگفت احوال ما برق جہاں است دے پیدا و دیگر دم نہاں است گہے بر طارم اعلیٰ نشینم گہے بر پشت پائے خود نہ بینم موجودہ اناجیل اصلی نہیں فرمایا۔ موجودہ اناجیل کے اصلی نہ ہونے کے لئے ایک بڑی بھاری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر ایک نبی کو ہم اس کی قوم کی زبان میں اس کی طرف بھیجتے ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ یہود کی زبان عبرانی تھی حالانکہ عبرانی میں اس وقت کوئی انجیل اصلی نہیں ملتی بلکہ اصل یونانی کو قراردیا جاتا ہے جو کہ سنت اللہ کے برخلاف ہے۔ فرمایا۔ دنیوی بادشاہوں اور حاکموں نے جو اعلیٰ مراتب کے عطا کرنے ابتلا اور امتحان کے واسطے امتحان مقرر کئے ہیں ۔ یہی سنت اللہ کے مطابق ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی بعد امتحانوں کے درجات عطا کرتا ہے ۔ جن مصائب اور تکالیف کے امتحانات میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس ہوئے وہ دوسرے کا کام نہ تھا۔ لے ۲۶ جولائی تا یکم اگست ۱۹۰۱ء افراط و تفریط کسی مقام پر ایسی کثرت بارش کا ذکر تھا جس سے بہت نقصان کا اندیشہ ہوا۔ حضرت نے فرمایا۔ جیسا لوگ احکام الہی کے معاملہ میں افراط و تفریط کرتے ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ بھی الحکم جلد ۵ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱ جولائی ۱۹۰۱ ء صفحہ ۳، ۴