ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 211

ملفوظات حضرت مسیح موعود برخلاف ہے۔ ۲۱۱ جلد دوم بابو محمد صاحب نے ذکر کیا کہ انہوں نے عصائے موسیٰ میں کئی باتیں واقعات کے برخلاف لکھی ہیں ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم نے ضرورة امام میں یہ ظاہر کیا تھا کہ ہمیں ان پر حُسن ظن ہے مگر افسوس کہ انہوں نے اس طرح واقعات کے برخلاف امور لکھ کر ہمارے اس حُسن ظن کو دور کر دیا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی عبارت نقل کر کے الہی بخش صاحب میری نسبت اور میرے والد صاحب کی نسبت ہتک کے لفظ استعمال کرتے ہیں کہ وہ ایسے مفلس تھے۔ تقویٰ کا خاصہ نہیں ہے کہ محض جھوٹ نقل کرے۔ ناقل بھی تو ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر الہی بخش صاحب کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے پرانے نہ ہوتے اور وہ ہمارے خاندان ۔ ران کے حالات سے وانا واقفیت نہ رکھتے اور کسی دور علاقہ کے رہنے والے ہوتے اور سرلیپل گریفن کی کتاب رؤسائے پنجاب میں میرے والد صاحب کا ذکر نہ پڑھا ہوتا اور غدر میں سرکار انگریزی کو پچاس سواروں کی مدد کے حال سے وہ نا واقف ہوتے تو میں ان کو معذور سمجھتا مگر اب تو ان کے تقویٰ کا خوب اندازہ ہو گیا۔ فرمایا۔ ساری کل انسان کی صحت اور ایمان کی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میں سختی تحریر میں سختی کسی نے کہا کہ کوئی اترا کرتاتھا کہ وادی عبدالکریم صاحب کی تحریر میں ہوتی ہے فرمایا۔ ہر ایک امر کے لئے موقع ہوتا ہے۔ ایک مولوی کو عین مسجد میں بدکاری کرتے ہوئے دیکھے تو دیکھنے والا ضرور کہے گا کہ یہ بدذات ہے۔ دین کی بے عزتی کرتا ہے مگر جو شخص نہیں جانتا کہ محل اور موقع کون سا ہے وہ دھوکا کھاتا ہے۔ ایک شخص خواہ مخواہ افترا کرتا ہے۔ بہتان باندھتا ہے، گالیاں دیتا ہے۔ ایک نہ دو نہ تین بلکہ بیسیوں تک نوبت پہنچاتا ہے۔ خواہ مخواہ کہا جائے گا کہ یہ بے حیا ہے۔ ۔ جو شخص قرآن شریف کے لئے غیرت نہیں رکھتا وہ کیا ہے؟ غصہ خدا نے بے جا نہیں بنایا۔ اس کا خراب استعمال بے جا ہے ۔ کسی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ کفر کے وقت تم بڑے غصہ والے تھے ۔اب