ملفوظات (جلد 2) — Page 207
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۷ جلد دوم کیا آپ کا یہ مذہب ہے کہ معاذ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شیطان نے مس کیا تھا۔ آپ کا یہ مذہب ہے تو بہت خطرناک ہے اور آپ کو پھر یہ مشکل پیش آئے گی کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ علم کی تاویل نہیں ہو سکتی ۔ مگر ہم تو ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اس کو روا نہیں رکھ سکتے بلکہ سن بھی نہیں سکتے ۔ ہمارا کلیجہ کانپ اٹھتا ہے اگر یہ سنیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شیطان نے مس کیا تھا۔ میرا مذہب ہے کہ وہ شخص ایمان سے خارج ہو جاتا ہے جو ایسا عقیدہ رکھے۔ آپ خدا سے ڈریں۔ یہ اصل آپ کو مجبور کرے گی کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت مس شیطان کا عقیدہ رکھیں اور اگر یہ عقیدہ آپ نہیں رکھتے تو پھر اس حدیث کے معنے کر کے بتاؤ۔ اس کے بعد پھر حضرت اقدس نے اپنی تقریر کے سلسلہ میں فرمایا کہ اصل بات یہی ہے کہ جیسے علامہ زمخشری نے لکھا ہے کہ ابن مریم سے مراد تمام مقدس ہیں ورنہ اگر اس کو مخصوص اور محدود کریں تو اسلام ہی ہاتھ سے جاتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص دس دن میرے پاس رہے تو اس کو رؤیت کی طرح پتہ لگ جاوے گا کہ خدا نے جو سلسلہ اس وقت قائم کیا ہے وہ حق ہے۔ سائل۔ پھر سوال وہی ہے کہ ابن مریم کی حدیث کو آپ مانتے ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ میں نے تو کہہ دیا کہ اسی طرح مانتا ہوں جس طرح قرآن اس کے معنے کرتا مانتا ہے۔ مسیح مر گیا اور اس کی جگہ اس کا مثیل آیا۔ دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ قرآن کو سب پر مقدم کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک سے نکلا ہے اور خدا تعالیٰ اس کا محافظ ہے۔ مہدی حسن ۔ پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیر مشتبہ الفاظ نہ بولتے تو جھگڑا ہی کیوں اُٹھتا۔ حضرت اقدس ۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور گستاخی ہے کہ آپ کی شان میں ایسے الفاظ بولے جاویں کہ انہوں نے مشتبہ لفظ بولے۔ آنحضرت نے کوئی مشتبہ لفظ نہیں بولا۔ یہ آپ کا قصور فہم ہے۔ وہ اُسی طرح پر بولے جس طرح شروع