ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 199

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۹ جلد دوم مُتَوَفِّيكَ کے معنے کرنے میں ہم نے ہی یہ معنے نہیں نکالے ہیں بلکہ اہلِ لغت نے یہی معنے کئے ہیں ۔ امام بخاری نے مُتَوَفِّيكَ کے معنے مُمِيتُك صاف کر دیئے ہیں پھر عقل بھی ہماری تائید کرتی ہے۔ کسی کو آج تک کبھی آسمان پر جاتے نہ دیکھا اور نہ آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا پھر عقل تو پڑوں نظیر کے مانتی نہیں اگر کوئی پہلے بھی ایسا واقعہ ہوا ہے تو اس کو بطور نظیر پیش کرو۔ اب رہی تائیدات سماویہ، میں اگر یہ کہوں کہ میرے نشانات کے کروڑوں آدمی گواہ ہیں تو یہ امر مبالغہ میں داخل نہیں ہے مثلاً لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی۔ چھ سال پیشتر اس کی موت، صورت موت وغیرہ سے پوری اطلاع دی گئی اور ایسا ہی ظہور میں آیا چنانچہ بہت سے ہندوؤں نے بھی اس کی تصدیق کی یہاں تک کہ ہندوؤں کی عورتیں تک بھی گواہ ہیں کیونکہ یہ پیشگوئی بہت کثرت کے ساتھ مشتہر ہوئی تھی اور خود لیکھرام جہاں جاتا تھا اس پیشگوئی کا تذکرہ کرتا تھا بلکہ خود اس نے بھی میری نسبت ایک پیشگوئی کی تھی کہ تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جائے گا مگر اب میں تم سے پوچھتا ہوں کہ و لیکھرام کہاں ہے؟ حالانکہ میں تو خدا کے فضل سے تین سال چھوڑ اب تک زندہ ہوں اور موجود ہوں باوجود یکہ وہ ایک قوی ہیکل تندرست نو جوان تھا اور میں ہمیشہ بیمار رہنے والا، عمر میں اس سے بہت بڑا پھر یہ اگر خدا تعالیٰ کی تائید نہ تھی تو کیا تھا ؟ ہاں بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی فطرت میں کج روی ہوتی ہے وہ سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے جیسا کہ آج عدالت میں سلطان محمد کے معاملہ کو پیش کیا گیا کہ وہ زندہ ہے۔ میں کیا کروں کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں اور کون ساطریق اختیار کروں جو ان کو سمجھا سکوں ۔ یہ لوگ نہ میرے پاس آتے ہیں نہ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ان کو خدا تعالیٰ کے قوانین پر اطلاع ہے اور نہ علم ہے۔ وہ نہیں دیکھتے کہ چار شخصوں کے متعلق پیشگوئیاں تھیں جن میں سے تین مر گئے اور اب صرف ایک باقی ہے اور وہ بھی پیشگوئی ہی کے موافق اب تک زندہ ہے۔ اس پیشگوئی کے غلط ہونے کا اعتراض اس وقت ہو سکتا ہے جب سلطان محمد سے پہلے میں مر جاؤں یا وہ عورت مر جاوے لیکن جب کہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح پر مقدر کیا ہے کہ وہ عورت بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے اور یہ کبھی نہیں ملے گا کیونکہ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں پھر کیوں یہ لوگ صبر سے انتظار نہیں