ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 182

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۲ جلد دوم تو شہید کے معنے یہ ہیں کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ ایک خام پر اللہ تعالیٰ ایک خاص قسم کی استقامت مومن کو عطا کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہر مصیبت اور تکلیف کو ایک لذت کے ساتھ برداشت کرنے کے لئے طیار ہو جاتا ہے۔ پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة: ۷،۶) میں منعم علیہ گروہ میں سے شہیدوں کا گروہ بھی ہے اور اس سے یہی مراد ہے کہ استقامت عطا ہو ، جو جان تک دے دینے میں بھی قدم کو ہلنے نہ دے۔ ۱۵ جولائی ۱۹۰۱ء حضرت اقدس گورداسپور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۱۵ جولائی ۱۹۰۱ء کو اس مقدمہ میں جو میرزا نظام الدین وغیرہ پر مسجد کا راستہ جو شارع عام ہے بند کرنے کی وجہ سے کیا گیا ہے فریق ثانی کی درخواست پر بغرض ادائے شہادت جانا پڑا ۔ گورداسپور کو جاتے ہوئے راستہ میں ایک بہت بڑی نہر آتی ہے اور ایک مقام پر وہ نہر دو بڑے شعبوں میں منقسم ہو کر بہتی ہے اس مقام کا نام ہم نے اپنے اس سفر نامہ میں مجمع البحرین رکھا ہے جو احباب یکوں پر سوار ہو کر گئے تھے وہ وہاں پہلے پہنچے اس لئے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے انتظار میں ٹھہر گئے چنانچہ کوئی آدھ گھنٹہ کے انتظار کے بعد حضرت اقدس کی سواری آ پہنچی ۔ حضرت اقدس نے کھانا کھانے کا حکم دیا۔ دستر خوان بچھایا گیا۔ احباب نے کھانا کھایا۔ اس وقت کچھ باتوں کا سلسلہ چل پڑا۔ حضرت اقدس نے فرمایا۔ متقی کی تائید خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے مومن کی تو شان ہی کے خلاف ہے کہ وہ منصوبہ کرے۔ گورداسپور میں حضرت اقدس نے مولانا مولوی محمد علی صاحب کی تجویز کے گورداسپور کا قیام موافق ان کے خسر منی نبی بخش صاحب میں گورداسپور کے عالی شان مکان الحکم جلد ۵ نمبر ۲۵ مورخه ۱۰ جولائی ۱۹۰۱ صفحه ۱، ۲