ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 179

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۹ جلد دوم کر سکتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ جب آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی تھی اندر سے ایک سرور اور لذت کا چشمہ پھوٹ نکلتا تھا۔ خدا تعالیٰ پر توکل ، اس کی محبت اور نصرت پر ایمان پیدا ہوتا تھا۔ محبت ایک ایسی شے ہے کہ وہ سب کچھ کرا دیتی ہے۔ ایک شخص کسی پر عاشق ہوتا ہے تو معشوق کے لئے کیا کچھ نہیں کر گزرتا۔ ایک عورت کسی پر عاشق تھی۔ اس کو کھینچ کھینچ کر لاتے تھے اور طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ماریں کھاتی تھی مگر وہ کہتی تھی کہ وہ مجھے لذت ملتی ہے۔ جبکہ جھوٹی محبتوں میں ، فسق و فجور کے رنگ میں جلوہ گر ہونے والے عشق میں مصائب اور مشکلات کے برداشت کرنے میں ایک لذت ملتی ہے تو خیال کرو کہ وہ جو خدا تعالیٰ کا عاشق زار ہو اس کے آستانہ الوہیت پر شار ہونے کا خواہشمند ہو وہ مصائب اور مشکلات میں کس قدر لذت پاسکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حالت دیکھو۔ مکہ میں ان کو کیا کیا تکلیفیں پہنچیں بعض ان میں سے پکڑے گئے۔ قسم قسم کی تکلیفوں اور عقوبتوں میں گرفتار ہوئے ۔ مرد تو مرد بعض مسلمان عورتوں پر اس قدر سختیاں کی گئیں کہ ان کے تصور سے بدن کانپ اٹھتا ہے۔ اگر وہ مکہ والوں سے مل جاتے تو اس وقت بظاہر وہ ان کی بڑی عزت کرتے کیونکہ وہ ان کی برادری ہی تو تھے مگر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو مصائب اور مشکلات کے طوفان میں بھی حق پر قائم رکھا۔ وہ وہی لذت اور سرور کا چشمہ تھا جو حق کے پیار کی وجہ سے ان کے سینوں سے پھوٹ نکلتا تھا ۔ ایک صحابی کی بابت لکھا ہے کہ جب اس کے ہاتھ کاٹے گئے تو اس نے کہا کہ میں وضو کرتا ہوں ۔ آخر لکھا ہے کہ سر کاٹو تو سجدہ کرتا ہے کہتا ہوا مر گیا ۔ اس وقت اس نے دعا کی کہ یا اللہ ! حضرت کو خبر پہنچا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ تھے۔ جبرائیل نے جا کر اسلام علیکم کہا اور آپ نے علیکم السلام کہا اوراس واقعہ پر اطلاع ملی۔ غرض اس لذت کے بعد جو خدا تعالی میں ملتی ہے ایک کیڑے کی طرح کچل کر مر جانا منظور ہوتا ہے اور مومن کو سخت سے سخت تکالیف بھی آسان ہی ہوتی ہیں ۔ سچ پوچھو تو مومن کی نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ مقتول ہونے کے لئے طیار رہتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو کہہ دیا جاوے کہ یا نصرانی ہو جا یا قتل کر دیا جائے گا۔ اس وقت دیکھنا ۔ ۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۴ مورخه ۳۰ جون ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱