ملفوظات (جلد 2) — Page 172
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد دوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیح موعود کو سلام فرمایا۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسیح موعود کو السلام علیکم کہا ہے اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ باوجود لوگوں کی سخت مخالفتوں کے اور ان کے طرح طرح کے بد اور جانستاں منصوبوں کے وہ سلامتی میں رہے گا اور کامیاب ہوگا۔ ہم کبھی اس بات پر یقین اور اعتقاد نہیں کر سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی طور سے سلام فرمایا۔ آنحضرت کے لفظ لفظ میں معارف واسرار ہیں ۔ تقومی کی حقیقت فرمایا۔ تقوی والے پر خدا کی ایک جھلی ہوتی ہے۔ وہ خدا کے سایہ میں ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تقویٰی خالص ہو اور اس میں شیطان کا کچھ حصہ نہ ہو ورنہ شرک خدا کو پسند نہیں اور اگر کچھ حصہ مجھ حصہ شیطان کا ہو تو خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ سب شیطان کا ہے ۔ خدا کے پیاروں کو جو دکھ آتا تا ۔ ہے ہے وہ وہ مصلحت الہی سے آتا ہے ورنہ ساری دنیا اکٹھی ہو جائے تو ان کو ایک ذرہ بھر تکلیف نہیں دے سکتی ۔ چونکہ وہ دنیا میں نمونہ قائم کرنے کے واسطے ہیں اس واسطے ضروری ہوتا ہے کہ خدا کی راہ میں تکالیف اٹھانے کا نمونہ بھی وہ لوگوں کو دکھائیں ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس سے بڑھ کر تردد نہیں ہوتا کہ اپنے ولی کی قبض روح کروں ۔ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے ولی کو کوئی تکلیف آوے مگر ضرورت اور مصالح کے واسطے وہ دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس میں خودان کے لئے نیکی ہے کیونکہ ان کے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ انبیاء اور اولیاء اللہ کے لئے تکلیف اس قسم کی نہیں ہوتی جیسی کہ یہود کولعنت اور ذلت ہو رہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ انبیاء شجاعت کا ایک نمونہ قائم کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کو اسلام کے ساتھ کوئی دشمنی نہ تھی ۔ مگر دیکھو جنگ احد میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے ۔ اس میں یہی بھید تھا کہ آنحضرت کی شجاعت ظاہر ہو جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کے مقابلہ میں اکیلے کھڑے ہو گئے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ۔ ایسا نمونہ دکھانے کا کسی نبی کو موقع الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰ رجون ۱۹۰۱ ء صفحه ۹