ملفوظات (جلد 2) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد دوم کہ جب وہ ان تمام دروازوں کو بند کر دیتا ہے جو شیطان کے اندر آنے کے ہیں تب اس میں سوائے خدا کے اور کچھ نہیں آتا۔ جب تم سنو کہ کسی کو الہام ہوتا ہے تو پہلے اس کے الہامات کی طرف مت جاؤ۔ الہام کچھ شے نہیں جب تک کہ انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کر لے اور بے جا تعصبوں اور کینوں اور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کر لے۔ دیکھو! اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک حوض ہے اور اس میں بہت سی نالیاں پانی کی گرتی ہیں۔ پھر ان نالیوں میں سے ایک کا پانی گندہ ہے تو کیا وہ سارے پانی کو گندہ نہ کر دے گا۔ یہی راز ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا گیا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ الا وحي يوحى (النجم : ۴ ، ۵ ) ہاں انس انسان کو ان کمزوریوں کے دور کرنے کے واسطے استغفار بہت پڑھنا چاہیے۔ گناہ کے عذاب سے بچنے کے واسطے استغفار ایسا ہے جیسا کہ ایک قیدی جرمانہ دے کر اپنے تئیں قید سے آزاد کرالیتا ہے مگر استغفار سے خدا اس کو نیچے دبا دیتا ہے۔ اے ۱۷ رمتی ۱۹۰۱ء حکم لو بیعت لینے کاحکم سوال ہوا۔ کیا آپ دوسرے صوفیا اور شاخ کی طرح عام رح عام طور پر بیعت لیتے ہیں یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔ فرمایا۔ ہم تو امر الہی سے بیعت کرتے ہیں جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں کہ الَّذِینَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ الخ فرمایا۔ جذبات اور گناہ سے چھوٹ جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا گناہ سے بچنے کا طریق خوف دل میں پیدا کرنا چاہیے۔ جب سب سے زیادہ خدا کی سے عظمت اور جبروت دل میں بیٹھ جائے تو گناہ دور ہو جاتے ہیں ۔ ایک ڈاکٹر کے خوف دلانے سے بسا اوقات لوگوں کے دل پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ وہ مر جاتے ہیں تو پھر خوف الہی کا اثر کیونکر نہ ہو۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۸ مورخه ۱۷ رمئی ۹۰۱ صفحه ۱۲ ، ۱۳