ملفوظات (جلد 2) — Page 165
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد دوم و رمتی ۱۹۰۱ء کو آپ نے یہ الہام سنایا۔ آج سے یہ شرف دکھا ئیں گے ہم 66 اس بات کا ذکر آیا کہ آج کل لوگ بغیر سچے علم اور واقفیت کے تفسیریں لکھنے بیٹھ جاتے تفسیر نویسی ہیں۔ اس پر فرمایا ۔ تفسیر قرآن میں دخل دینا بہت نازک امر ہے ۔ مبارک اور سچا دخل اس کا ہے جو خدا کے روح القدس سے مدد لے کر دخل دے ورنہ علوم مروجہ کی شیخی پر لکھنا دنیاداروں کی چالاکیاں ہیں۔ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ میرا بھائی فوت ہو گیا ہے۔ میں اس کی قبر یکی بناؤں قبر کی پختگی کا مسئلہ یا نہ بناؤں؟ فرمایا۔ اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جائیں تو یہ حرام ہے لیکن اگر خشک مثلا کی طرح یہ کہا جائے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹ لگائی جائے تو یہ بھی حرام ہے۔ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ ہمارے نزد یک بعض وجوہ میں پکی کرنا درست ہے مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے بعض جگہ قبر میں سے میت کو کتے اور بتجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔ مردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو اس حد تک نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے واسطے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔ اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے واسطے بھی عزت رکھی ہے۔ ورنہ عزت ضروری نہیں تو غسل دینے ، کفن دینے ، خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔ مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔ مومن اپنے لئے ذلت نہیں چاہتا۔ حفاظت ضروری ہے جہاں تک نیت صحیح ہے خدا تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا ۔ دیکھو! مصلحتِ الہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پختہ گنبد ہو اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں مثلاً نظام الد م الدین، فرید الدین، قطب الدین، معین الدین رحمۃ اللہ علیہم یہ سب صلحاء تھے ۔