ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 155

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۵ جلد دوم انتقال نبوت اور یہ انتقال نبوت چونکہ خدا کے غضب کے سبب سے ہوا تھا اس لئے حکومت جو نبوت کے ساتھ دوسرا فضل اس قوم کو ملا ہوا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ میرا مطلب اس بیان سے یہ ہے کہ ایک وہ سلسلہ تھا جو سلسلہ موسویہ کہلاتا ہے اور جس کی آخری اینٹ مسیح ابن مریم تھے جن کی بن باپ پیدائش نے اس سلسلہ کے خاتمہ کی خبر دی اور خدا نے بنی اسماعیل میں اپنے وعدہ کے موافق ایک اور عظیم الشان سلسلہ موسوی سلسلہ کے ہم رنگ پیدا کیا چنانچہ ہمارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کے بانی ہوئے اور اسی طرح پر مثیل موسی قرار پائے کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جیسے علیہ ایک سلسلہ کے بانی تھے اسی طرح ہمارے نبی کریم بھی ایک سلسلہ کے بانی قرار پائے ۔ اور اس طرح پر بھی کہ جیسے فرعون پر موسیٰ علیہ السلام کو فتح ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آخر میں پوری کامیابی عطا ہوئی اور ابو جہل جو اس امت کا فرعون تھا ہلاک ہوا۔ اور بھی بہت سے وجوہ مماثلت کے ہیں جن کو ہم اس وقت بیان نہیں کرتے۔ کیونکہ اصل مطلب تو یہ بتانا ہے کہ یہ سلسلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام امت محمدیہ کا خاتم الخلفء کے سلسلہ کا مثیل ہے۔ پس جس طرح پرحضرت مولی علیہ السلام کا سلسلہ حضرت مسیح پر آکر ختم ہوا یہاں بھی ضرور تھا کہ خاتم الخلفاء مسیح موعود ہی ہوتا اور جیسے حضرت مسیح علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے اسی طرح ام پر ضرور تھا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آنے والے مسیح موعود کا زمانہ بھی چودھویں صدی ہی ہوتا تا کہ مشابہت پوری ہو اور وہ وقت اور یہ وقت دونوں مل گئے ۔ ایسا ہی خدا نے یہ بھی مقرر کر رکھا انے تھا کہ جیسے یہودی حضرت عیسی کے وقت میں بہت ہی بگڑ گئے تھے اور ان کی اخلاقی ، ایمانی حالتیں ہو گئی تھیں اور حقیقت باقی نہ رہی تھی ایسے وقت میں انجیل ان کو حقیقت دکھانے کے لئے آئی تھی اور پاک باطنی اور اخلاقی قانون سے باخبر کرنے آئی تھی جس سے وہ لوگ بالکل بے خبر ہو چکے تھے ۔ اسی طرح اس وقت زمانہ کا حال ہو رہا ہے۔ فسق و فجور کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ یورپ کی فسق و فجور کا ایک دریا بہ رہا ہے۔ اور نمائشی تہذیب نے اخلاق کے تمام اعلیٰ اصولوں پر پانی پھیر دیا ہے اور دہریت کو پھیلا دیا ہے۔ مسخ