ملفوظات (جلد 2) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد دوم کے لئے قدم آگے بڑھاتے ہیں اور علوم پھیلاتے ہیں اور کبھی تنگی نہیں کرتے اور ست اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھتے ۔ لے ۱۹ را پریل ۱۹۰۱ء ۱۹ را پریل ۱۹۰۱ء کو لاہور سے فورمن کالج امریکن مشن کے دو پادری مع ایک دیسی عیسائی کے قادیان آئے تھے۔ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی ملے اور انہوں نے کچھ سوالات آنحضرت سے کیے جن کا جواب حضرت اقدس دیتے رہے ۔ ہم چونکہ بعد میں پہنچے تھے۔ اس لئے ابتدائی سوال اور اس کا جواب نہ لکھ سکے۔ ہمارے ایک بھائی نے اسے لکھا تھا مگر افسوس ہے کہ وہ اس کو محفوظ نہ رکھ سکے اور وہ کاغذان سے گم ہو گیا۔ اگر بعد میں مل گیا تو ہم اسے بھی درج کر دیں گے۔ سر دست ہم اُس مقام سے درج کرتے ہیں جہاں سے ہم نے سنا اور قلم بند کیا (ایڈیٹر ) نبیوں سے بہت نشانات مانگنے والوں نے نشان مانگے ۔ مامور ا ہی خود نشان ہوتا ہے انہوں نے ان کے جواب میں یہی کہا کہ عقل مندا یسے سوال الہی نہیں کرتے بلکہ مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں تو ایسے موقع پر جیسا انجیل سے پتہ لگتا ہے بہت سختی پائی جاتی ہے۔ یہ سچی بات ہے کہ جو شخص خدا کی طرف رف سے آتا ہے وہ نشانات لے کر آتا ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ وہ خود ایک نشان ہوتا ہے لیکن کا نا ہے لیکن تھوڑے ہوتے ہیں جو ان نشانات سے فائدہ اٹھاتے اور ان کو شناخت کرتے ہیں مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد دنیا دیکھ لیتی ہے کہ وہ کیسے عظیم الشان نشانات کے ساتھ آیا ہے۔ یقینا سمجھ لیں کہ وہ نہیں مرتا جب تک دنیا پر ثابت نہ کر دے کہ وہ صاحب نشان ہے۔ سوال ۔ آپ کی سمجھ میں خدا کا کلام کیا ہے یعنی کیا آپ بھی کچھ نوشتے چھوڑ مامورین کی دو قسمیں سوال آپ کے چھ میں ان کا کام کیاہے یعنی کیا آپ بھی چھوٹتے چھوڑ کی جائیں گے جیسے انجیل یا تو رات ہے؟ جواب حضرت اقدس ۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ مامور ہو کر دنیا کی لی الحکم جلد ۵ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳ ، ۱۴