ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 141

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۱ جلد دوم سے مشابہ ہے۔ اسی طرح معرفت اور یقین کی روشنی جہاں قائم ہو جاتی ہے، وہاں تاریکی نہیں رہتی ۔ اور اس لئے میں کہتاہوں کہ اپنے کارو، استغفار اور دعاؤں میں لگ جاؤ آؤ۔ ملک کی حالت خطر ناک ہوری ہے۔ طاعون اس لئے میں کہتا ہوں کہ اپنے کاروبار کو چھوڑ کر کبھی یہاں بڑے زور کے ساتھ پھیلتی جاتی ہے اور اس کے دورے بعض اوقات ساٹھ ساٹھ ستر ستر برس تک ہوتے رہتے ہیں اور شہروں کے شہر تباہ کر دیتی ہے۔ مولوی صاحب کے پاس ہی ایک خط آیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض گاؤں بالکل خالی ہو گئے ہیں ۔ یہ مت سمجھو کہ ایک دو سال میں رخصت ہو جائے گی۔ یہ اپنا اثر کر کے جاتی ہے۔ پھر ہمارے تو ملک سے دور نہیں اس وقت پانچ ضلع مبتلا ہو رہے ہیں ۔ پس بے خوف ہو کر مت رہو۔ استغفار اور دعاؤں میں لگ جاؤ اور ایک پاک تبدیلی پیدا کرو۔ اب غفلت کا وقت نہیں رہا۔ انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے کہ تیری عمر لمبی ہوگی ۔ موت کو قریب سمجھو۔ خدا کا وجود برحق ہے۔ جو ظلم کی راہ سے خدا کے حقوق دوسروں کو دیتا ہے وہ ذلت کی موت دیکھے گا۔ اب جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں تین گروہ کا ذکر ہے۔ ان تین کا ہی مزا چکھا دے گا۔ اس میں جو آخر تھے وہ مقدم ہو گئے یعنی ضالین ۔ اسلام وہ تھا کہ ایک شخص مرتد ہو جاتا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی مگر اب میں لاکھ عیسائی ہو چکے ہیں اور خود نا پاک ہو کر پاک وجود کو گالیاں دی جاتی ہیں پھر مغضوب کا نمونہ طاعون سے دکھا یا جا رہا ہے۔ اس کے بعد انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا گروہ ہوگا۔ یہ قاعدہ کی بات ہے اور خدا کی قدیم سے سنت چلی آتی ہے کہ جب وہ کسی قوم کو مخاطب کر کے کہتا ۔ ہے کہ یہ کام نہ کرنا تو اس قوم میں سے ایک گروہ ضرور خدا کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کوئی قوم ایسی دکھاؤ کہ جس کو کہا گیا کہ تم یہ کام نہ کرنا اور اس نے نہ کیا ہو۔ خدا نے یہودیوں کو کہا کہ تحریف نہ کرو ۔ انہوں نے تحریف کی۔ قرآن کی نسبت یہ نہیں کہا بلکہ یہ کہا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ١٠) غرض دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے گروہ میں داخل کرے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۱ ء صفحه ۱ تا ۵