ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 131

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۱ جلد دوم نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ اُن کو پہنچائیں اور اگر نہ پہنچائیں تو معصیت ہوگی ۔ ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ اُن کی غلطیاں ظاہر کی جاویں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بنا کر خدا سے دور جا پڑے ہیں۔ یورپ کا تو یہ حال ہو گیا ہے کہ واقعی اخلَدَ إِلَى الْأَرْضِ ( الاعراف: ۱۷۷) کا مصداق ہو گیا ہے۔ طرح طرح کی ایجادیں صنعتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس سے تعجب مت کرو کہ یورپ ارضی علوم و فنون : وفنون میں ترقی کر رہا ہے۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب آسمانی علوم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر زمین ہی کی باتیں سوجھا کرتی ہیں۔ یہ کبھی ثابت نہیں ہوا کہ نبی بھی کلیں بنایا کرتے تھے یا اُن کی ساری کوششیں اور ہمتیں ارضی ایجادات کی انتہا ہوتی تھیں۔ ایک قرآنی پیشگوئی کا ظہور آج جو اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ( الزلزال: ۳) کا زمانہ ہے یہ مسیح موعود ہی کے وقت کے لیے مخصوص تھا۔ چنانچہ اب دیکھو کہ کس قدر ایجادیں اور نئی کانیں نکل رہی ہیں۔ ان کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی ہے۔ میرے نزدیک طاعون بھی اسی میں داخل ہے۔ اس کی جڑ زمین میں ہے۔ پہلا اثر چوہوں پر ہوتا ہے۔ غرض اس وقت جبکہ زمینی علوم کمال تک پہنچ رہے ہیں۔ تو ہین اسلام کی حد ہو چکی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس پچاس ساٹھ سال میں جس قدر کتا بیں ، اخبار ، رسالے تو ہین اسلام میں شائع ہوئے ہیں کبھی ہوئے تھے؟ پس جب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے تو کوئی مومن نہیں بنتا جب تک کہ اس کے دل میں غیرت نہ ہو۔ بے غیرت آدمی دیوث ہوتا ہے۔ اگر اسلام کی عزت کے لئے دل میں محبت نہیں ہے عبادت محبت ہی کا دوسرا نام ہے تو عبادت بھی بے سود ہے کیونکہ عبادت محبت ہی کا نام ہے ۔ وہ تمام لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ایسی چیز کی عبادت کرتے ہیں جس پر کوئی سلطان نازل نہیں ہوا وہ سب مشرک ہیں ۔ سلطان تسلط سے لیا گیا ہے جو دل پر تسلط کرے۔ اس لیے یہاں دلیل کا لفظ نہیں لکھا ہے۔