ملفوظات (جلد 2) — Page 120
ملفوظات حضرت مسیح موعود اله۔ طرف کھینچتی ہے۔ اُن کے درمیان اختلاف کا دائرہ بہت ہی وسیع ہوتا جاتا ہے۔ جلد دوم ہماری دعوت ۔ خدا کی تلاش مگر ہم جس بات کی دعوت کرتے ہیں اور جوکسی سچائی کے طلب گار کو بتلا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ خدا کی تلاش کرے۔ مثلاً آریہ ہیں وہ تمام قدوسوں اور راستبازوں کو گالیاں دیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک سچے سے سچا پریمی اور بھگت بھی کبھی نجات نہیں پاسکتا۔ اُن کے اُصول کے موافق خدا نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ اب بتاؤ کہ ایسے پرمیشر پر جو وہ پیش کرتے ہیں کسی سچے طالب کی امید کیوں کر وسیع ہوسکتی ہے اور کیوں کر خدا کا جلال اور شوکت اُس کی روح پر ایک رفت پیدا کر کے گناہ کی طرف جانے سے بچا سکتی ہے۔ جب وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے تو میرے وجود کا ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا پھر جب یہ مانا گیا کہ وید کے سوا خدا نے کسی اور ملک کوا۔ اپنے کلام سے فیض ہی نہیں بخشا تو کس قدر مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ الغرض ہماری نصیحت تو یہی ہے کہ جو سچائی کی تلاش میں قدم رکھتا ہے اس کی غرض اور غایت خدا کی تلاش ہو۔ پھر معارف اور حقائق کا دریا بہہ نکلتا ہے جب اس نکلتا ہے جب اس کو سچے خدا پر جو ایک ہی خدا ہے سچا ایمان پیدا ہو جائے ۔ حقائق اور معارف کا تعلق علوم سے ہے یاد کو حقائق اور معارف کا تعلق علوم سے ہے۔ جس قدر معرفت وسیع ہوگی حقائق کھلتے جائیں گے۔ پس تحقیقات کرتے وقت دل کو بالکل پاک اور صاف کر کے کرے۔ جس قدر دل تعصب اور خود غرضی سے پاک ہو گا اسی قدر جلد اصل مطلب سمجھ میں آجائے گا۔ نور اور ظلمت میں جو فرق ہے اسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی جانتا ہے۔ سچی اور صحیح بات ایک ہی ہوتی ہے۔ پس دولفظوں میں میری ساری تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ سیدھا خط دو نقطوں میں ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ اُمور ہیں جو قابلِ غور ہیں ۔ آپ یہاں رہیں اور صبر و استقلال سے ٹھہریں۔ خدا کے فضل سے کچھ بعید نہیں ہے کہ آپ کو اس راہ کا پتہ ملے جو کروڑ ہا مقدس انسانوں کا تجربہ شدہ ہے اور اب بھی جس ا کے تجربہ کار موجود ہیں ۔