ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 114

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۴ جلد دوم تب آخری اینٹ بھی خدا ہی ہوگی ۔ جلد بازی اچھی چیز نہیں ہے۔ یہ عموماً بد قسمت انسان کی محرومی کا موجب ہوتی ہے مثلاً اگر آپ ہماری صحبت میں نہ رہیں اور چلے جائیں اور دو چار باتیں بھی کہہ دیں کہ وہاں کیا تھا، کچھ نہ ملا ، تو بتائیے ہمارا اس میں کیا نقصان ہوگا۔ دنیا میں اس قسم کی باتیں کرنے والے بہت ہیں لیکن محروم و بد قسمت ۔ دیکھو! اقلیدس کی چند اشکال اگر ایک بچے کے سامنے رکھ دیں۔ ممکن ہے وہ بعض اشکال کو پسند کرے لیکن ان اشکال کی پسندیدگی ایسی نفع بخش تو نہیں ہو سکتی اس لیے کہ وہ ان کے نتائج سے بے خبر ہے اور نہیں جانتا کہ اُن سے کیا کیا فوائد پہنچ سکتے ہیں ۔ میں نے اسلام پر اعتراض کرنے والے دیکھے بھی ہیں اور ان اعتراضوں کو جمع بھی کیا ہے جو اسلام پر کیے جاتے ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جہاں ان نا واقفوں نے اعتراض کیا ہے وہی حکمت کا خزانہ اور بیش بہا معارف اور حقائق کا دفینہ ہوتا ہے۔ ان کے ہاتھ میں بجز نادانی اور کور چشمی کے اور کچھ نہیں ہے۔ اعتراض کر کے انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تاریک دماغ کے انسان ہیں اور کج رو طبیعت رکھتے ہیں ورنہ وہ معارف اور حقائق کی معدن پر اعتراض نہ کرتے۔اس لیے میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نرمی اور تحمل کے ساتھ اصل حقیقت کی طلب میں لگیں ۔ اے لو آپ خدا جوئی کے طالب ہیں۔ آپ کے لئے عمدہ طریق یہی ہے کہ آپ پہلے تصحیح عقائد کریں جس سے آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ خدا جس کی تلاش اور جستجو آپ کو ہے، ہے کیا چیز؟ اس سے آپ کی معرفت کو ترقی ملے گی اور معرفت میں جو قوت جذب محبت کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک محبت پیدا پیدا کرنے کا کا موجب ہوگی۔ ہو گی ۔ بدوں اس کے محبت کے محبت کا کا دعوی دعوی سیرو سئیر و پھل پھل کی کی طرح ہے ہے جو چند روز کے بعد زائل ہو جاتا ہے۔ یہ آپ یا درکھیں اور ہمارا مذہب یہی ہے کہ کسی شخص پر خدا کا نور نہیں چمک سکتا جب تک آسمان سے وہ نور نازل نہ ہو۔ یہ سچی بات ہے کہ فضل آسمان سے آتا ہے۔ جب تک خود خدا اپنی روشنی اپنے طلبگار پر ظاہر نہ کرے اس کی رفتار ایک کیڑے کی مانند ہوتی ہے اور ہونی چاہیے الحکم جلد ۵ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۱ ء صفحه ۸، ۹