ملفوظات (جلد 1) — Page 91
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۱ جلد اول چونکہ کوتاہ بین اور دوراندیش نہیں بلکہ ظاہر پرست ہے اس لئے اس کو مناسب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے اور وہ بظاہر اس کے مفید مطلب نتیجہ خیز نہ ہو تو خدا پر بدظن نہ ہو کہ اس نے میری دعا نہیں سنی ۔ وہ تو ہر ایک کی دعا سنتا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) فرماتا ہے۔ راز اور بھید یہی ہوتا ہے کہ داعی کے لئے خیر اور بھلائی رڈ دعا ہی میں ہوتی ہے۔ دعا کا اصول یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول دعا میں ہمارے اندیشہ اور خواہش کے تابع نہیں ہوتا ہے۔ دیکھو بچے کس قدر اپنی ماؤں کو پیارے ہوتے ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے لیکن اگر بچے بیہودہ طور پر اصرار کریں اور روکر تیز چاقو یا آگ کا روشن اور چمکتا ہوا چنگار مانگیں تو کیا ماں با وجود سچی محبت اور حقیقی دلسوزی کے کبھی گوارا کرے گی کہ اس کا بچہ آگ کا انگارہ لے کر ہاتھ جلالے یا چاقو کی تیز دھار پر ہاتھ مار کر ہاتھ کاٹ لے؟ ہرگز نہیں۔ اسی اصول سے اجابت دعا کا اصول سمجھ سکتے ہیں۔ میں خود اس امر میں ایک تجربہ رکھتا ہوں کہ جب دعا میں کوئی جز و مضر ہوتا ہے تو وہ دعا ہرگز قبول نہیں ہوتی ہے۔ یہ بات خوب سمجھ میں آ سکتی ہے کہ ہمارا علم یقینی اور صحیح نہیں ہوتا۔ بہت سے کام ہم نہایت خوشی سے مبارک سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے خیال میں ان کا نتیجہ بہت ہی مبارک خیال کرتے ہیں مگر انجام کار وہ ایک غم اور مصیبت ہو کر چمٹ جاتا ہے غرض یہ کہ خواہشات انسانی سب پر صاد نہیں کر سکتے کہ سب صحیح ہیں۔ چونکہ انسان سہو اور نسیان سے مرکب ہے اس لئے ہونا چاہیے اور ہوتا ہے کہ بعض خواہش مصر ہوتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کو منظور کرلے تو یہ امر منصب رحمت کے صریح خلاف ہے۔ یہ ایک سچا اور یقینی امر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کو قبولیت کا شرف بخشتا ہے مگر ہر رطب و یابس کو نہیں کیونکہ جوش نفس کی وجہ سے انسان انجام اور مال کو نہیں دیکھتا اور دعا کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ جو حقیقی بہی خواہ اور مال بین ہے ان مضرتوں اور بد نتائج کو ملحوظ رکھ کر جو اس دعا کے تحت میں بصورت قبول داعی کو پہنچ سکتے ہیں اسے رد کر دیتا ہے اور یہ رڈ دعا ہی اس کے لئے قبول دعا ہوتا ہے۔ پس ایسی دعا ئیں جن میں انسان حوادث اور صدمات سے محفوظ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے مگر مضر دعاؤں کو بصورت رد قبول فرما لیتا ہے۔ مجھے یہ الہام بارہا ہو چکا