ملفوظات (جلد 1) — Page 86
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۶ جلد اول اخلاق عظیمہ ان پر بہت بڑا اور گہرا اثر کرتے ہیں ۔ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ آپ ایک درخت کے نیچے سوئے پڑے تھے کہ ناگاہ ایک شور و پکار سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جنگلی اعرابی تلوار کھینچ کر خود حضور پر آپڑا ہے۔ اس نے کہا۔ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) بتا اس وقت میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے پورے اطمینان اور سچی سکینت سے جو حاصل تھی فرمایا کہ اللہ ۔ آپ کا یہ فرمانا عام انسانوں کی طرح نہ تھا۔ اللہ جو خدائے تعالیٰ کا ایک ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کا ملہ کا متجمع ہے۔ ایسے طور پر آپ کے منہ سے نکلا کہ دل سے نکلا اور دل پر ہی جا کر ٹھہرا۔ کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں لیکن جس کو وہ اللہ یا دہی نہ ہو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائے گا۔ الغرض ایسے طور پر اللہ کا لفظ آپؐ کے منہ سے نکلا کہ اس پر رعب طاری ہو گیا اور ہاتھ کانپ گیا۔ تلوار گر پڑی۔ حضرت نے وہی تلوار اٹھا کر کہا کہ اب بتلا۔ میرے ہاتھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ وہ ضعیف القلب جنگلی کس کا نام لے سکتا تھا۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا اور کہا جا تجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ مروّت اور شجاعت مجھ سے سیکھ۔ اس اخلاقی معجزہ نے اس پر ایسا اثر کیا کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ سیر میں لکھا ہے کہ ابوالحسن خرقانی کے پاس ایک شخص آیا۔ راستہ میں شیر ملا اور کہا کہ اللہ کے واسطے پیچھا چھوڑ دے۔ شیر نے حملہ کیا اور جب کہا کہ ابوالحسن کے واسطے چھوڑ دے تو اس نے چھوڑ دیا۔ شخص مذکور کے ایمان میں اس حالت نے سیاہی سی پیدا کر دی اور اس نے سفر ترک کیا۔ واپس آ کر یہ عقدہ پیش کیا۔ اس کو ابوالحسن نے جواب دیا کہ یہ بات مشکل نہیں ۔ اللہ کے نام سے تو واقف نہ تھا۔ اللہ کی سچی ہیبت اور جلال تیرے دل میں نہ تھا اور مجھ سے تو واقف تھا۔ اس لئے میری قدر تیرے دل میں تھی۔ پس اللہ کے لفظ میں بڑی بڑی برکات اور خوبیاں ہیں بشرطیکہ کوئی اس کو اپنے دل میں جگہ دے اور اس کی ماہیت پر کان دھرے۔ اسی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی معجزات میں ایک اور معجزہ بھی ہے کہ