ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ جلد اول حاصل کرو اور بڑے جدو جہد سے حاصل کر ولیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ میں بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ علوم ہی میں یک طرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا ان کو موقع نہ ملا اور وہ خود اندر الہی نور نہ رکھتے تھے وہ بھی عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دور جا پڑے اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے الٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوششیں کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفل بن بن گئے ۔ مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجالا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ان علوم کی تعلیمیں پادریت اور فلسفیت کے رنگ میں دی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان تعلیمات کا دلدادہ چند روز تو حسن ظن کی وجہ سے جو اس کو فطرتاً حاصل ہوتا ہے رسوم اسلام کا پابند رہتا ہے لیکن جوں جوں ادھر قدم بڑھاتا چلا جاتا ہے اسلام کو دور چھوڑتا جاتا ہے اور آخر وہ رسوم ہی رہ جاتی ہیں اور حقیقت سے کچھ تعلق نہیں رہتا۔ یہ نتیجہ پیدا ہوتا ہے اور ہوا ہے یک طرفہ علوم کی تحقیقات اور تعلیم میں منہمک ہونے کا۔ بہت سے قومی لیڈر کہلا کر بھی اس رمز کو نہیں سمجھ سکے کہ علوم جدیدہ کی تحصیل جب ہی مفید ہو سکتی ہے جب محض دینی خدمت کی نیت سے ہو اور کسی اہل دل اور آسمانی عقل اپنے اندر رکھنے والے مرد خدا کی صحبت سے فائدہ اٹھا یا جاوے۔ میرا ایمان یہی کہتا ہے کہ اس دہریت نما نیچریت کے پھیلنے کی یہی وجہ ہے کہ جو شیطانی حملے الحاد کے زہر سے بھرے ہوئے علوم طبعی ، فلسفی یا ہیئت دانوں کی طرف سے اسلام پر ہوتے ہیں ان کے مقابلہ کرنے کے لئے یا ان کا جواب دینے کے لئے اسلام اور آسمانی نور کو عاجز سمجھ کر عقلی ڈھکوسلوں اور فرضی اور قیاسی دلائل کو کام میں لایا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے مجیب قرآن کے مطالب اور مقاصد سے کہیں دور جا پڑتے ہیں اور ایک چھپا ہوا الحاد کا پردہ اپنے دل پر ڈال لیتے ہیں جو ایک وقت وقت آ آ کر اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل نہ کرے دہریت کا جامہ پہن لیتا ہے اور وہی رنگ رنگ دل د کو دے دیتا ہے جس سے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔