ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 581 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 581

جلد اول جو شخص چاہے کہ ہم اس سے پیار کریں وہ ہمیں یقین دلا دے کہ وہ خادم دین ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۴۲۳ وقف زندگی کی راحت و لذت کا ذاتی تجربہ ۵۰۲ ا ایک دینی خوشخبری پر حضور کا اس قدر خوش ہونا کہ اگر کوئی آپ کو کروڑوں روپے لا کر دیتا تو اتنا خوش نہ ہوتے ۲۷۹ میری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب مجھے کوئی خواب بھی آتا ہے تو میں اسے اپنی ذات سے مخصوص نہیں سمجھتا بلکہ اسلام اور اپنی جماعت کے متعلق سمجھتا ہوں ۲۵۱،۲۵۰ خدا تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہننے پر آمادگی ۲۷۹ دعا کے بارہ میں صاحب تجربہ ۹۱ آپ کی دعا ئیں جن پر آپ التزام رکھتے تھے ۴۲۱،۴۲۰ میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے ۲۷۶ میرا تو مذہب ہے کہ دعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے لد ٠٧ آپ کی ایک دعا ۲۱۷ ۹۰ میری سب سے مقدم دعا یہی ہوتی ہے کہ میرے دوستوں کو ہموم و عموم سے محفوظ رکھے ہم نے اپنے دوستوں کے لیے یہ اصول مقرر کر رکھا ہے کہ وہ خواہ یاد دلائیں یا نہ دلائیں ان کی دینی اور دنیوی بھلائی کے لیے دعا کی جاتی ہے ۹۲ ۲۲۰ اپنے احباب کے لیے دعا فرمانا میں آج کا دن اور رات کا کسی قدر حصہ اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے دعا میں گزارنا چاہتا ہوں ۴۴۲ ۶۵ ۳۱۶ ۳۸ ۵۱ ۳۰۶ ۲۵۵ ۳۵۳ ۴۲۴ ۲۶۴ ۳۵۴ ۴۱۱ له الله ۲۹۴ ۲۹۷ ۴۱۷ لد اله ۴۲۲ ملفوظات حضرت مسیح موعود ہمارا نور قلب ( حديث - عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ) کو صیح قرار دیتا ہے سلطان القلم قلم سے ہم کو اذیت دی گئی اور قلم ہی ہمارا حربہ ہے قلمی جہاد کا عزم ایک عربی تصنیف کا ارادہ کتاب کشف الغطاء کی تصنیف کا مقصد ایک کتاب ”تعلیم“ لکھنے کی خواہش اخلاق و عادات رمضان المبارک میں حضور کی مصروفیات قبر سے روح کے تعلق کا ذاتی تجربہ اگر ہم چاہیں تو لوقا پر توجہ کریں اور اس سے سب حال دریافت کریں مگر ہماری طبیعت اس امر سے کراہت کرتی ہے مولوی کہلانے پر ناپسندیدگی عشق و محبت الہی کے بارہ میں آپ کی کیفیت امر الہی کی تعمیل اس خسیس دنیا کو خوش کر کے اپنے خدا کی دھتکار کی طاقت ہم کہاں رکھ سکتے ہیں جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق و سرور اللہ تعالیٰ پر توکل کا اس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا خوف خدا دین کے لیے غیرت جب کوئی دینی ضروری کام آ پڑے تو میں اپنے او پر کھانا پینا اور سونا حرام کر لیتا ہوں جب تک وہ کام نہ ہو جائے