ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 512

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱۲ جلد اول اطلاع دینا انسانی منصوبہ اور دخل ہو سکتا ہے۔ ہر گز نہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ انسانی طاقت، انسانی فہم وفراست سے بالاتر اور بالاتر ہے۔ لے نشانات کی ضرورت اب جلاؤ کہ کیا بینشانات اپنی صداقت اور ثبوت میں کسی اور خارجی دلیل کے محتاج ہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ معجزات میں سے ایک ہی کافی ہے چنانچہ جب ان سے معجزہ مانگا گیا تو یہی کہتے رہے کہ یونس نبی کے نشان کے سوا اور کوئی نشان نہ دیا جاوے گا۔ میں نے پہلے بتلا دیا ہے کہ جو لوگ اندرونی حالات سے واقف ہوتے ہیں ان کے لئے نشانات کی بڑی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اللہ تعالیٰ صرف رحم کر کے ان کے مزید اطمینان اور اپنی ہستی منوانے کے لئے نشانات ظاہر فرماتا ہے۔ مجھ کو تعجب پر تعجب اور حیرت پر حیرت ہوتی ہے کہ لوگ اولیاء اللہ کے معجزات کے قائل ہیں اور ایسے ایسے خوارق ان کے بیان کرتے ہیں جن کے لئے نہ کوئی دلیل ہے نہ عقلی یا نقلی ثبوت ہے اور وہ بطور کتھا اور کہانی کے ان کے زمانہ کے بہت عرصہ بعد لوگوں میں مشہور ہوئے ہیں۔ مثلاً شیعہ ہی سے اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے معجزات مانگو تو وہ اس قدر بیان کریں گے کہ گنتے گنتے تھک جائیں مگر جب ثبوت مانگیں تو کچھ بھی نہیں۔ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے خوارق بکثرت بیان کیے جاتے ہیں مگر ان کی کسی کتاب میں منقول نہیں ہیں ۔ اب لوگ خدا سے ڈریں اور سوچ کر جواب دیں کہ جو باتیں صد ہا سال بعد لکھی گئی ہیں ان کی تو تصدیق کی جاتی ہے لیکن جو آنکھوں سے دیکھے گئے ہیں ان کی تکذیب کی جاتی ہے۔ افسوس یہ لوگ اتنا بھی تو نہیں سوچتے کہ خبر معائنہ کے برابر نہیں ہوتی ۔ سنی ہوئی بات کسی واقعہ صحیحہ کی برابری نہیں کر سکتی۔ اب میرے نشانات دیکھ کر جو ان نشانوں کی تکذیب کی جاتی ہے یہ میری تکذیب نہیں یہ واقعات صحیحہ کی تکذیب ہے۔ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے۔ یہ یاد رکھو کہ یہ مصیبت اس لئے آئی ہے کہ تقویٰ اور طہارت اٹھ گیا اور قانون الہی یہی ہے کہ یہ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۵ مورخہ یکم را کتوبر ۱۹۰۰ صفحه ۲، ۳