ملفوظات (جلد 1) — Page 508
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰۸ جلد اول خلاف ورزی کی خود سزا پالے گا لیکن تمہیں یہ مناسب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک واجب العزت حکم کی نافرمانی کرو۔ غرض اس کو کچھ دے دینا چاہیے اگر پاس ہو اور اگر پاس کچھ نہیں تو نرم الفاظ سے اس کو سمجھا دو۔ بدظنی فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔ اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔ بدظنی بہت بری چیز ہے۔ انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔ اگر بدظنی کا مرض نہ بڑھ گیا ہوتا تو بتلاؤ کہ ان مولویوں کو جنہوں نے میری تکفیر اور ایذاد ہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا اور کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی کون سی وجوہ کفر کی اور میری تکذیب کی نظر آئی تھی۔ میں نے پکار پکار کر اور خدا تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہا کہ میں مسلمان ہوں۔ قرآن کریم کو خاتم الکتب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور اسلام کو ایک زندہ مذہب اور حقیقی نجات کا ذریعہ قرار دیتا ہوں ۔ خدا تعالیٰ کی مقادیر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتا ہوں ۔ اسی قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہوں ۔ اتنی ہی نمازیں پڑھتا ہوں ۔ رمضان کے پورے روزے رکھتا ہوں ۔ پھر وہ کون سی نرالی بات تھی جو انہوں نے میرے کفر کے لئے ضروری سمجھی ۔ صریح ظلم ہے ۔ وہ اپنے گندے اعمال اور زندگی کو نہیں دیکھتے۔ وہ زمین اور آسمان پر غور اور تدبر کر کے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ان مصنوعات کا خالق ہے۔ لیکھرام کے نشان سے مولویوں نے کیا فائدہ اٹھایا ؟ آتھم کا نشان پھر آتھم کی پیش گوئی سے کیا فائدہ حاصل کیا۔ اللہ اللہ کیسی صاف نکلی بلکہ اس کو مشکوک کرنے کی سعی کی حالانکہ اس میں اگر کوئی الزام باقی ہے تو آتھم پر جس نے اپنی خاموشی اور ہمارے مطالبات کے جواب نہ دینے سے اس کی سچائی پر مہر کر دی جبکہ اس میں صریح شرط موجود تھی ۔ پھر ایک قانونی طبیعت کا آدمی بھی اس کے دو ہی معنی کرے گا۔ ایک یہ کہ الحکم جلد ۴ نمبر ۳۴ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۰ صفحه ۵،۴