ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 489 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 489

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۹ جلد اول ہمارے مخالفوں میں اگر دیانت اور خدا ترسی ہو تو عزیر کا قصہ بیان کرتے وقت ضرور ہے کہ وہ ان آیات کو بھی ساتھ رکھیں جس میں لکھا ہے کہ مردے واپس نہیں آتے۔ پھر ہم بطریق تنزل ایک اور جواب دیتے ہیں۔ اس بات کو ہم نے بیان کر دیا ہے اور پھر کہتے ہیں کہ قصوں کے لئے اجمالی ایمان کافی ہے۔ ہدایات میں چونکہ عملی رنگ لانا ضروری ہوتا ہے اس لیے اُس کا سمجھنا ضروری ہے۔ ماسوا اس کے یہ جو لکھا ہے کہ سو برس تک مردہ رہے آمات کے معنے آنام بھی آئے ہیں اور قوت نامیہ اور حسیہ کے زوال پر بھی موت کا لفظ قرآن کریم میں بولا گیا ہے۔ بہر حال ہم سونے کے معنے بھی اصحاب کہف کے قصہ کی طرح کر سکتے ہیں۔ اصحاب کہف اور عزیر کے قصہ میں فرق اتنا ہے کہ اصحاب کہف کے قصہ میں ایک کتا ہے اور یہاں گدھا ہے اور نفس کتنے اور گدھے دونو سے مشابہت رکھتا ہے۔ خدا نے یہودیوں کو گدھا بنایا ہے اور کتے کو بلغم کے قصہ میں بیان فرمایا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نفس پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جو بے ہوش ہوتا ہے اُس کے ساتھ یا کتا ہو گا یا گدھا۔ غرض دوسرے طریق پر جس کا ہم نے ذکر کیا ہے آمات کے معنی اکام کرتے ہیں اور ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سو برس چھوڑ کر کوئی دولاکھ برس تک سویا ر ہے، ہماری بحث یہ ہے کہ روح ملک الموت لے جاوے پھر واپس دنیا میں نہیں آتی ۔ سونے میں بھی قبض روح تو ہوتا ہے مگر اس کو ملک الموت نہیں لے جاتا۔ اور عرصہ دراز تک سوئے رہنا ایک ایسا امر ہے کہ اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا۔ ہندوؤں کی کتابوں میں دم سادھنے (حبس دم کرنے) کی ترکیبیں لکھی ہوئی ہیں اور جوگ ابھیاس کی منزلوں میں دم سادھنا بھی ہے۔ ابھی تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ اخبارات میں لکھا تھا کہ ریل کی سڑک طیار ہوتی تھی تو ایک سادھو کی کٹیا نکلی ایسا ہی اخبارات میں ایک لڑکے کی بیس سال تک سوئے رہنے کی خبر گشت کر رہی تھی۔ غرض یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے کہ ایک آدمی سو سال تک سو یا ر ہے۔ لم يتسنہ کی حقیقت پر یہ لفظ لف يتسلہ قابل غور ہے اور موجودہ زمانہ کے تجربہ پر لحاظ کرنے کے بعد لم يتسنہ کی حقیقت سمجھ لینا کچھ بھی مشکل